خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 225

خطبات محمود ۲۲۵ سال ۱۹۳۷ء۔تھا تو پھر۲۴ گھنٹوں کے بعد بیعت سے نکلنے کے کیا معنے تھے۔جو شخص کسی معین وقت کا نوٹس دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو فلاں وقت سے مجھے علیحدہ سمجھیں وہ دوسرے لفظوں میں یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ اُس وقت تک میں آپ کی جماعت میں ہی شامل ہوں۔اب یہ خط مجھے تین بجے ملا اور میرا جو اعلان شائع ہوا ہے وہ دوسرے دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب لکھا گیا۔گو اس قسم کا اعلان کرنے کے متعلق میں پہلے دن ہی جب مجھے وہ خط ملا فیصلہ کر چکا تھا لیکن پھر دل نے تسلیم نہ کیا کہ یونہی اعلان کر دیا جائے کی بلکہ میں نے چاہا کہ اس بارہ میں استخارہ اور مشورہ کر لیا جائے۔چنانچہ رات کو استخارہ کیا گیا اور پھر صبح دس بجے کے قریب مختلف دوستوں کو میں نے بلایا اور ان سے مشورہ لیا۔اس کے بعد ساڑھے گیارہ بجے کے قریب وہ اعلان لکھا گیا اور بارہ ساڑھے بارہ بجے بورڈ پر لکھ دیا گیا۔غرض تین بجے جو خط مجھے ملا اُس کے مطابق دوسرے دن تین بجے تک مصری صاحب میری بیعت میں شامل تھے۔جب ۲۴ گھنٹے ختم ہو جاتے تب وہ وقت شروع ہوتا جب اپنے نوٹس کے مطابق وہ جماعت سے الگ ہونے والے تھے۔پس اگر اس نوٹس کے دوران میں میں مصری صاحب کو جماعت سے خارج کرنے کا اعلان کرتا تو بھی ان کا یہ اعتراض درست نہ ہوتا کہ نکلے تو ہم خود ہیں، یہ کس طرح کہتے ہیں کہ ہم نے نکالا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے ایسا اعلان بھی کوئی نہیں کیا۔پس سارا اعتراض بنائے فَاسِد عَلَى الْفَاسِدِ کی قسم کا ہے اور جس کسی نے بھی یہ کہا ہے کہ میں نے انہیں جماعت سے خارج کرنے کا اعلان کیا ہے میں اسے انعام دینے کیلئے تیار ہوں اگر وہ میرے اعلان میں اس قسم کے الفاظ دکھا دے۔میری طرف سے اس بارہ میں جو اعلان ہو ا وہ یہ ہے: و مکرم شیخ صاحب! السَّلَامُ عَلَيْكُمُ وَرَحَمَةُ اللهِ آپ کے تین خط ملے۔پہلے خط کا مضمون اس قدر گندہ اور گالیوں سے پُر تھا کہ اس کے بعد آپ کی نسبت یہ خیال کرنا کہ آپ بیعت میں شامل ہیں اور جماعت احمد یہ میں داخل ہیں بالکل خلاف عقل تھا۔پس میں اس فکر میں تھا کہ آپ کو توجہ دلاؤں کہ آپ خدا تعالیٰ سے استخارہ کریں کہ اس عرصہ میں آپ کا دوسرا خط ملا جس میں فخر الدین ملتانی صاحب کی طرف سے معافی نامہ بھجوانے کا ذکر تھا۔میں اس معافی نامہ کی انتظار میں رہا مگر وہ ایک غلطی کی وجہ سے میری نظر سے نہیں گزرا اور کل دس گیارہ بجے اس کا علم ہوا اور اُسی وقت اُن کو اس کی اطلاع کر دی گئی۔اس کے چند گھنٹہ بعد آپ کا تیسرا خط ملا کہ اگر چو ہمیں