خطبات محمود (جلد 18) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۷ء نیک نامی کے ساتھ دنیا میں قائم رہے اور اسلام کو وہی عزت پھر حاصل ہو جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہوئی تھی اور اس کام کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوششیں باطل اور رائیگاں نہ جائیں اس کا فرض ہے کہ خلیفہ کے ساتھ دن رات تعاون کر کے اس کام میں لگ جائے کہ ذہنی طور پر بھی جماعت کی اصلاح ہو جائے۔ایسے لوگوں کا فرض ہے کہ جس طرح شادی کے موقع پر لوگ اپنی جھولیاں پھیلا دیتے ہی ہیں کہ ان میں چھوہارے گریں اسی طرح جب خلیفہ جماعت کی اصلاح کیلئے کچھ کہے تو اسے لیں اور افراد جماعت کے سامنے اسے دُہرائیں اور دُہرائیں اور دُہرائیں حتی کہ گند ذہن سے گند ذہن آدمی بھی سمجھ جائے اور دین پر صحیح طور پر چلنے کیلئے رستہ پالے۔میں نے علماء کو پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی اور ان میں خوشی کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ ایک مثال ایسی ہے کہ جس نے اس طرف توجہ کی اور وہ مولوی ظہور حسین صاحب مولوی فاضل ہیں جو گرلز سکول میں پڑھاتے ہیں۔انہوں نے ان مسائل کو بار بار اور عمدگی کے ساتھ طالبات کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔پس اس مضمون کے شروع کرنے سے قبل کہ اس قسم کے فتنوں کے وسیع اور مستقل اسباب کیا ہیں اور ان کا علاج کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ صرف مبلغ ہی نہیں بلکہ ہر سمجھدار اور دیانت دار اور مومن جو سمجھنے سمجھانے کی قابلیت رکھتا ہے، اپنے آپ کو تیار کرے کہ اسے سن کر اور سمجھ کر دوسروں کو سمجھائے۔بعض چھوٹے چھوٹے اصول دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو انسانی اعمال پر بہت لمبا اثر ڈالتے ہیں۔لوگ ای خیال کرتے ہیں کہ ہر فرد کا ہر فعل منفردانہ حیثیت رکھتا ہے۔مثلاً کوئی شخص چوری کرتا ہے تو لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس نے مال دیکھا اور لالچ میں آگیا۔حالانکہ بسا اوقات وہ چوری نتیجہ ہوتی ہے ان اثرات کا جو بچپن یا جوانی میں پڑے ہوتے ہیں۔وہ منفرد فعل نہیں ہوتا بلکہ بیماری ہوتی ہے جو اندر ہی اندر ترقی کر رہی ہوتی ہے اور آخر ایک دن گرفتار کرا دیتی ہے۔بعض لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں اسے عادت ہے یا بیچارا ایسی مصیبت میں گرفتار ہو چکا ہے کہ اس کے سوا چارہ نہیں تھا۔حالانکہ وہ ایسے اثر کے ماتحت جھوٹ بول رہا ہوتا ہے جو بچپن یا جوانی میں اس پر پڑا تھا۔پس جب تک ہر مربی اس نکتہ کو نہ سمجھ لے کہ بعض اصول انسانی افکار کو بدل دیتے ہیں لاکھ سمجھاؤ دوسرے کی سمجھ میں بات آہی نہیں سکتی۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ انفرادی طور پر سمجھا نا کسی کام نہیں آتا جب تک اس کے مطابق ماحول میں بھی تبدیلی نہ کی جائے۔اس کے بغیر عارضی طور پر تو اصلاح ہو جاتی ہے مگر اس عارضی نصیحت کا اثر دور ہوتے ہی