خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 214

خطبات محمود ۲۱۴ سال ۱۹۳۷ء جائے۔پھر سننے والوں میں ایک حصہ ”سترے بہترے لوگوں کا ہے جو بات کو سمجھ سکتے ہی نہیں۔کچھ حصہ بچوں کا ہے جو ا بھی اس عمر کو ہی نہیں پہنچے کہ سمجھ سکیں۔ایک حصہ ایسے لوگوں کا ہے جو ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ سننے کے بعد بات کو سمجھ سکتے ہیں۔ایک حصہ ایسے لوگوں کا ہے جو بوجہ حافظہ کمزور ہونے کے مسجد سے نکلتے ہی بات کو بھول جاتے ہیں۔اگر آجکل کے لیکچروں میں شامل ہوتے ہیں تو باہر جا کر کہتے ہیں کی کہ میر صاحب نے بہت اچھا لیکچر دیا۔کوئی پوچھے کیا تھا ؟ تو کہیں گے یاد تو نہیں مگر تھا بہت اعلیٰ۔کوئی کہے گا کہ آپ کو اطلاع ملی ہو گی آج مولوی ابوالعطاء صاحب کا لیکچر بہت اعلیٰ تھا۔آگے پوچھا جائے کیا تھا! تو والعطاءصاحب بس جواب ہوگا کہ یاد نہیں۔وہ مسجد سے نکلتے ہی بھول جاتے ہیں۔صرف ان کے دماغ پر اتنا اثر رہتا ہے کہ بات بڑی اچھی تھی۔ایسے طبقہ کے سامنے جب تک دس میں دفعہ ایک بات کو دُہرایا نہ جائے اُن کے ذہن نشین ہو ہی نہیں سکتی۔ہمارے ہاں ایک خادمہ تھی وہ بڑی عمر میں آئی تھی۔حضرت اماں جان نے کی اُسے فرمایا کہ قرآن شریف پڑھا کرو۔کہنے لگی مجھے یاد نہیں رہتا۔آپ نے فرمایا کوشش کر و آخر اس نے پڑھنا شروع کیا۔ایک آدھ جملہ سبق لیتی اور پھر اُسے سارا دن رہتی رہتی۔اس طرح دس پندرہ سال میں اس نے سیپارہ ڈیڑھ سیپارہ پڑھا۔ایک دن ہم نے دیکھا کہ وہ کام کرتی جاتی تھی اور کہتی جاتی تھی کہ جا بھانوں آبہناں۔جا بھانوں آبہنا۔اُس سے دریافت کیا گیا کہ یہ کیا کہتی ہو؟ تو کہنے لگی قرآن کی شریف کا سبق یاد کرتی ہوں۔اسے کہا گیا یہ تو قرآن شریف میں نہیں ہے۔کہنے لگی ہے کیوں نہیں ، مجھے فلاں عورت بتا کر گئی ہے اور جب پڑھانے والے سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں تو اسے يَعْلَمُ مَا بَيْنَ بتا آئی تھی۔تو کئی دماغ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ سنتے کچھ ہیں اور یا دان کو کچھ ہوتا ہے۔ان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ خطبہ سن چکے ہیں، اس لئے علماء کی ذمہ داری پوری ہو چکی ہے غلط ہے۔جب تک علماء جو خلیفہ کے بازو اور کان ہوتے ہیں، اُس کے ساتھ پورا پورا تعاون نہ کریں ان کا فرض ادا نہیں ہوتا۔علماء سے کی میری مرا دصرف مبلغ ہی نہیں بلکہ وہ طبقہ بھی علماء میں شامل ہے جو بات کو سمجھ سکتا اور یاد رکھ سکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا " کہ خدا سے ڈرنے والے علماء ہیں۔پس ہر مومن جو دین کا درد اور سلسلہ سے اخلاص رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا سلسلہ