خطبات محمود (جلد 18) — Page 213
خطبات محمود ۲۱۳ سال ۱۹۳۷ء خلاف عمل کر رہے ہیں یا اس کے مطابق۔پس ایسے فتنوں کے مستقل اور حقیقی اسباب کے متعلق میں جو کچھ بیان کروں گا جماعت کے علماء کو چاہئے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر اسے جماعت کے افراد کے اچھی طرح ذہن نشین کریں۔یہ مت خیال کرو کہ میرے سامنے اس وقت ہزاروں لوگ بیٹھے ہیں اور میں جو کہوں گا اسے خود ہی سن لیں گے۔ان میں سے کچھ تو سورہے ہیں۔پھر یہ خیال مت کرو کہ جو جاگتے ہیں وہ سب سنتے ہیں۔کئی ایک سوچ رہے ہوں گے کہ میں اپنے بیمار بچے کو چھوڑ کر آیا ہوں ، خطبہ جلدی ختم ہو تو میں اسے جا کر دوائی دوں، کئی سوچتے ہوں گے کہ آج فلاں فصل کو گوڈی کرنی ہے یا فلاں کھیت میں ہل چلانا ہے یہاں سے جاؤں تو جا کر یہ کام کروں۔پس یہاں مختلف خیالات کے لوگ آ بیٹھے ہیں۔پھر کافی لوگ ایسے ہیں جو جاگتے تو ہیں مگر روحانی طور پر سوتے ہیں۔پھر جو توجہ سے سن بھی رہے ہیں وہ سب کے سب اس قابل نہیں کہ بات کو سمجھ سکیں یا توجہ دے سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور وفات مسیح ، آمد مسیح اور نبوت وغیرہ مسائل پر بہت سے لیکچر دیئے۔مجھے یہ اس وقت یاد نہیں کہ یہ لیکچر روزانہ ہوتے تھے یا ہفتہ میں تین دن یا ہفتہ وار۔مگر یہ حقیقت ہے کہ آپ نے بہت سے لیکچر دیئے۔ایک دن ایک عورت سے آپ نے دریافت فرمایا کہ تم لیکچروں میں شامل ہوتی ہو یا نہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں شامل ہوتی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں نے کیا بیان کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ بس یہی نماز روزہ کی باتیں ہوتی ہیں اور کیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سلسلہ بند کر دیا۔تو بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ بات کو سُن کر بھی نہیں سمجھ سکتیں۔وہ بڑی مخلص عورت تھی مگر جب آپ تقریر کرتے وہ سُبحَانَ اللهِ ، واری جاواں صدقے جاواں ہی کرتی رہتی۔وہ اپنے اخلاص میں کی یہی دیکھتی رہتی کہ خدا کا مسیح با تیں کر رہا ہے۔آگے یہ کہ بات کیا ہے اس کے متعلق جاننے کی اس نے کبھی کوشش ہی نہیں کی اور سمجھ لیا کہ بس روزے نماز کی باتیں ہی ہوں گی کوئی چوری وغیرہ کی باتیں تو ہوں گی نہیں۔اس طرح مردوں میں بھی ایک حصہ ایسے لوگوں کا ہے جو میری باتوں پر سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ ہی کہتا رہتا ہے اور بجائے سمجھنے کے یہی کہتا جاتا ہے کہ کیا اچھی بات کی ہے، خلیفہ امی جو ہوئے۔ایسے لوگ محتاج ہوتے ہیں کہ انفرادی طور پر انہیں سامنے بٹھا کر بات ان کے ذہن نشین کرائی ہے ،