خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 208

خطبات محمود ۲۰۸ سال ۱۹۳۷ء بچہ اپنی ماں کی گود میں دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی دھمکی دیتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک اس کی ماں ہی سب سے بڑی ہوتی ہے اور ہم تو ہیں ہی اُس کی گود میں جس سے بڑا فی الواقعہ کوئی نہیں ۔ پس ہم کس طرح کسی سے ڈر سکتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے آنحضرت ﷺ اور صلى الله عروسہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے طفیل زمین و آسمان ہماری خدمت کیلئے لگا دیئے گئے ہیں اور کوئی دنیوی چیز ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ دنیا میں سب سے زیادہ تباہ کن چیز آگ ہی ہے مگر خدا تعالیٰ کے کلام میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آگ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی نہیں بلکہ حضور کے غلاموں کی بھی غلام ہے ۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صرف تو ہی ابراہیمی نہیں بلکہ ابراہیمی نور تیری جماعت کے اندر بھی داخل کیا گیا ہے اور وہ بھی ظلی طور پر ابراہیم ہو گئی ہے ۔ پھر یہ نشانات کا سلسلہ بند نہیں ہو گیا بلکہ اب بھی اس کثرت اور تواتر سے جاری ہے کہ دیکھ کر صلى الله حیرت ہوتی ہے ۔ یہ فتنہ آج ظاہر ہوا ہے مگر قبل از وقت دور دراز علاقوں میں احمدیوں کو ایسی خوا میں آنی شروع ہو گئی تھیں۔ میں سندھ میں تھا کہ ڈیرہ دون یا منصوری سے ایک دوست کی چٹھی آئی جس میں ایک خواب درج تھی اُس دوست نے لکھا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں تا کہ آپ کا لیکچر سنیں ۔ جس کے معنے یہ تھے کہ قریب کے زمانہ میں مجھے دینِ اسلام اور سلسلہ کی حفاظت کیلئے بولنا پڑے گا اور گویا اُس وقت ان دونوں کی روحیں میری مدد کیلئے نازل ہوں گی ۔ پھر ایک اور دوست کی سینکڑوں میل سے چکھی آئی تھی ان کے رویا کو میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا مگر تفصیلا نہیں کیونکہ مصلحت نہ تھی ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ میں نے دیکھا آنحضرت ا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ ہیں اور جماعت کے بعض دوست بھی ساتھ ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے سب کو کھڑا کیا اور فرمایا کیا میں نے جساسہ سے پناہ مانگنے کیلئے نہیں کہا تھا (جستا سہ دجال ہی کا ایک نام ہے ہے جس کا احادیث میں ذکر ہے )۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ سب کہو ہاں آپ نے فرمایا تھا۔ جساسہ کی اسے کہتے ہیں جو تجسس کر کے عیب نکالتا ہے ۔ پھر میں نے اپنے اپریل ۱۹۳۷ء کے خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کہ میری ہمشیرہ عزیزہ مبارکہ بیگم