خطبات محمود (جلد 18) — Page 176
خطبات محمود ۱۷۶ سال ۱۹۳۷ء شادی ہو گئی ہے۔ پھر وہ قادیان آگئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہو ا تو آپ نے ان دونوں کو قادیان سے نکال دیا اور فرمایا یہ شریعت کے خلاف فعل ہے کہ محض لڑکی کی رضا مندی دیکھ کر ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے ۔ وہاں بھی لڑکی راضی تھی اور کہتی تھی کہ میں اس مرد سے شادی کروں گی لیکن چونکہ ولی کی اجازت کے بغیر انہوں نے نکاح پڑھوایا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں قادیان سے نکال دیا۔ اسیطرح یہ جو نکاح ہوا یہ بھی نا جائز ہے اور یہی وہ بات ہے جو میں نے اس مائی سے کہی ۔ میں نے اسے کہا دیکھو اس وقت تمہارے بیٹے کو رشتہ مل رہا ہے اس لئے تم کہتی ہو جب لڑکی راضی ہے تو کسی ولی کی رضا مندی کی کیا ضرورت ہے لیکن تمہاری بھی لڑکیاں ہیں اور اگر وہ بیاہی جا چکی ہیں تو ان کی بھی لڑکیاں ہوں گی کیا تم پسند کرتی ہو کہ ان میں سے کوئی لڑکی اسی طرح نکل کر کسی غیر مرد کے ساتھ چلی جائے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک مقام پر فرماتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ بدسلوکی نہ کرو۔ کیونکہ اگر آج کوئی یتیم ہے تو کل تمہارے گھر میں بھی یتیم بن سکتے ہیں ۔ اسی طرح میں نے اسے کہا تم سو چوا گر کل تمہاری بیٹی یا نواسی اُدھل کر چلی جائے تو کیا تم ٹھنڈے دل سے یہ کہنے کے لئے تیار ہو گی کہ ہم اس کے جانے پر خوش ہیں ۔ کیا ہوا اگر ہم ناراض ہیں ۔ وہ تو جس جگہ گئی اس جگہ جانے پر راضی تھی ۔ اگر کوئی شریف گھرانہ اپنی لڑکیوں کے متعلق اس قسم کی بات برداشت نہیں کر سکتا تو دوسروں کی لڑکیوں کے متعلق بھی یہ بات برداشت نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی اور کی لڑکی ولی کی رضامندی کے بغیر آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں لڑکی کی مرضی یہی تھی ۔ اور جب ان کی اپنی لڑکی کسی غیر مرد کے ساتھ نکل جائے تو کہتے ہیں کہ اس بے حیا کا سر کاٹ دینا چاہئے ۔ جس سے معلوم ہوا کہ نفس اندر سے انہیں بھی مجرم قرار دے رہا ہوتا ہے ۔ حضرت خلیفہ امسیح الاول نے ایک دفعہ ایک چور سے کہا دیکھو تم لوگوں پر کتنا ظلم کرتے ہو۔ ان کی محنت تم جا کر چُرا لاتے ہو ۔ کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ وہ کہنے لگا واہ مولوی صاحب ! آپ نے بھی عجیب بات کہی بھلا ہمارے جیسی بھی کوئی شخص محنت کرتا ہے ۔ لوگ دن کو محنت کرتے ہیں اور ہم رات کو جب تمام لوگ آرام سے سوئے ہوئے ہوتے ہیں، روزی کمانے کیلئے نکلتے اور اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں کیا اس سے زیادہ بھی کوئی حلال کی روزی ہے؟ آپ فرماتے ہیں میں نے سمجھا یہ اس طرح