خطبات محمود (جلد 18) — Page 165
خطبات محمود ܬܪܙ سال ۱۹۳۷ء ۱۷ سب سے بڑا حربہ دُعا ہے فرموده اارجون ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں تحریک جدید کے گزشتہ جلسہ کے موقع پر بوجہ بیماری کے شامل نہیں ہو سکا تھا اور گواب بھی اس بیماری کے اثر کے ماتحت میں اس قابل نہیں ہوں کہ زیادہ بول سکوں بلکہ اس بیماری کے بعد اب تک یہ حالت ہے کہ اگر مجھے کھڑا ہونا پڑے تو سر میں ایسا شدید چکر آتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں شاید گر جاؤں گا اس لئے صحت کے لحاظ سے زیادہ کھڑا ہونے کی طاقت اب بھی نہیں رکھتا مگر چونکہ اس وقت میں حصہ نہ لے سکا تھا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس کی بجائے آج اختصار کے ساتھ کوئی بات کہہ دوں تا اس ثواب میں میں بھی شریک ہو سکوں اور وہ بات جو میں کہنی چاہتا ہوں انہی روزوں اور دعاؤں کے متعلق ہے جن کی تحریک کوئی دو ماہ ہوئے میں نے کی تھی۔تحریک جدید کا اُنیسواں مطالبہ یہ ہے کہ دوست خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں اور اس کیلئے میں نے یہ طریق اختیار کر رکھا ہے کہ ہر سال کچھ روزے رکھے جائیں اور دعائیں کی جائیں۔اور ج یہ روزے جہاں تک ممکن ہو مقررہ دنوں میں ہی رکھے جائیں سوائے اس کے کہ کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی اور وجہ پیش آ جائے۔اس دفعہ میری تجویز کے مطابق سات ماہ میں چودہ روزے مخلصین جماعت رکھیں گے اور رکھ رہے ہیں۔میں نے نصیحت کی تھی اور اب پھر اُسے دُہراتا ہوں کہ اِن دنوں میں دوست خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان بعض رفتن کو جو خواہ احرار کی طرف سے ہوں یا بعض