خطبات محمود (جلد 18) — Page 14
خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۳۷ء کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہم سوچ کر جواب دیں گے۔اس سوچنے کے دوران میں حملہ بھی جاری رکھتے ہیں اور جب وہ علاقہ فتح ہو جاتا ہے یا کام ختم ہو جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو صلح پر تیار تھے مگر افسوس اب تو وہ علاقہ فتح ہی ہو گیا اور پھر کسی اور جگہ پر اپنا رسوخ بڑھانے لگ جاتے ہیں۔اور پھر جب انگریز اور فرانسیسی سوال اُٹھاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ معاملہ ذرا پیچیدہ ہے سوچ سمجھ کر جواب دیں گے۔ادھر برطانیہ اور فرانس بھی جانتے ہیں کہ اس سوچنے کا کیا مطلب ہے مگر کر کچھ نہیں سکتے۔مثلاً آجکل والنٹیئر وں کا سوال ہے۔اٹلی اور جرمنی سے برابر والنٹیئر سپین جارہے ہیں۔انگریز اور فرانسیسی کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔اٹلی اور جرمن والے کہتے ہیں کہ اچھا ہم غور کر کے جواب دیں گے۔مگر ساتھ ہی ۲۲ / دسمبر ۱۹۳۶ ء ۲ جنوری ۱۹۳۷ ء تک دس ہزار والنٹیئر ز اٹلی سے اور دس ہزار جرمنی سے پین پہنچ گئے ہیں۔باغیوں نے ساٹھ ہزار کا مطالبہ کیا تھا۔اگر یہ درست ہے تو غالبا جب ساٹھ ہزار آدمی پہنچ جائے گا پھر یہ اقوام کہہ دیں کی گی کہ اچھا اب والنٹیئر روانہ نہ کئے جائیں۔ء سے اگر غور کیا جائے تو اصل میں یہ قصور دونوں کا ہے۔اٹلی والے دیکھتے ہیں کہ فرانس اور انگلستان کے پاس بہت سی نو آبادیات ہیں اور ہمارے پاس کوئی نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ یہ دوسرے ملکوں کی سے فائدہ اُٹھا ئیں اور ہم نہ اُٹھا ئیں۔چونکہ انگلستان کے بعض مقتدر مصنف اور سیاست دان غلطی۔یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو تہذیب اور شائستگی سکھانے جاتے ہیں جو غلط بات ہے اور میں بار بار اس کے متعلق انگریز کو توجہ دلا چکا ہوں کہ اِس دلیل کا خود ان کو نقصان پہنچے گا۔ان کو صاف کہنا چاہئے کہ ہندوستان کو اُس وقت کے رائج الوقت قوانین ملک بازی کے مطابق ہم نے لیا تھا اور اب ہم عدل اور انصاف سے اس پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ انگریز سیاستدانوں کی اس غلط دلیل سے اٹلی اور جرمنی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی دوسرے ملکوں کو تہذیب اور شائستگی سکھائیں گے چنانچہ اٹلی والوں نے یہی دلیل ابی سینیا کی جنگ کی تائید میں دی تھی۔یہ ظاہر ہے کہ ایک مدرس دوسرے کو کس طرح منع کر سکتا ہے کہ وہ علم نہ پڑھائے۔اس دلیل کے نئے استعمال کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب بعض قو میں صاف کہ رہیں کہ رفاہِ عام نہیں ہم اپنے فائدہ کیلئے سب کچھ کر رہے ہیں اور ہم اپنا فائدہ چھوڑنے کیلئے کسی صورت میں تیار نہیں ہیں۔اب تو بعض انگریز مدبرین نے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ ہم نے ی ہندوستان پر اپنے فائدہ کیلئے قبضہ کر رکھا ہے مگر اٹلی والوں نے ان باتوں سے کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی