خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 128

خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۳۷ء ا ہوا کرتی۔اس قسم کے عذرات کی عادت جرائم کی محبت سے پیدا ہوتی ہے اور انسان چاہتا ہے کہ ان جرائم میں روک نہ پیدا ہو۔ہاں کچھ ایمان کی چاشنی بھی ہوتی ہے۔کیونکہ اگر ایمان کی چاشنی نہ ہو تو دھڑلے سے جھوٹ بولے۔ایمان اس سے یہ کہتا ہے کہ اگر سچ بولنے سے بچ سکو تو فیہا اور کفر کہتا ہے کہ نہ بچ سکو تو پھر جھوٹ ہی بول دو۔ہمارے بعض آدمی چائے میں میٹھا اور نمک ڈال لیتے ہیں اور اس کا نام سنگترہ چائے رکھتے ہیں۔میں تو اسے منافق چائے کہا کرتا ہوں۔ایسے لوگوں کی حالت بھی اس ملی ہوئی مٹھاس اور نمک کی سی ہوتی ہے۔عام طور پر یہ مرض ایسا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ احمدیوں کو چھوڑ کر باقی لوں میں ننانوے فیصدی پایا جاتا ہے۔احمدی جو غیر تعلیم یافتہ ہیں ان میں بھی کثیر تعداد میں پایا جاتا ہے۔وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہی چیز قومی تباہی کا موجب ہوا کرتی ہے۔وہ اپنے آپ کو کامل بنانے کی کوشش نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ بغیر کامل بننے کے بری ہو جائیں۔لیکن جب کوئی شخص اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ سچ بولے تو وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اسے کہیں جھوٹ نہ بولنا پڑے وہ اپنے کیریکٹر کو مضبوط کرتا ہے اور اعزازی کاموں کو بھی خوب تندہی اور کوشش سے کرتا ہے۔اپنی ہر غلطی کو محسوس کر کے اس پر پچھتاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ آئندہ وہ غلطی اس سے سرزد نہ ہو۔جھوٹے انسان میں اصلاح کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی جو شخص کامل مومن بننا چاہے اُسے چاہئے کہ جھوٹ اور نفاق سے پر ہیز کرے۔اس طرح اُس کے تمام عیوب اُس شخص کی طرح آپ ہی کی آپ دور ہو جائیں گے جو نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تھا اور جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ایک آدمی کا ذکر ہے وہ بازار میں سے گزررہا تھا کہ کیچڑ میں اُس کا پاؤں پھسلا تو اُس نے اپنی کمزوری پر پردہ ڈالنے کیلئے بہانہ بنایا اور اونچی آواز سے پکارا کہ ہائے جوانی ! لیکن جب اُس نے ار در گرد دیکھا کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا تو اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے کہا جوانی میں تو کونسا بہادر ہوتا تھا۔محض ظاہری اخلاق والا انسان ایک اجنبی کو تو دھوکا دے سکتا ہے لیکن واقف کا رکو دھوکا نہیں دے سکتا۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں نانا جان کے ساتھ ریل میں انٹر کلاس میں سفر کر رہا تھا۔اُن کا طریق تبلیغ کا یہ ہوتا تھا کہ دنیا کے اخلاق کے بگڑ جانے کے واقعات بیان کر کے نصیحت کرتے اور بالآخر ضرورت مصلح کی طرف آجاتے اور گفتگو اِس طور پر کرتے کہ مجلس پر چھا جاتے اور کسی کو یہ جرات نہ ہوتی