خطبات محمود (جلد 18) — Page 106
خطبات محمود 1+7 سال ۱۹۳۷ء وہ تھک جاتا اور اُس کے قومی مشتعل ہو جاتے ہیں تو فرمایا ایسی حالت میں پھر وہ نہیں پکارتا بلکہ میں اُسے پکارنا شروع کر دیتا ہوں۔فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی اُسے چاہئے کہ اب میری آواز کا جواب دے اور اُسے سنے۔گویا پہلے فقرہ میں تو یہ مضمون تھا کہ بندہ اللہ تعالیٰ کو بلاتا ہے اور اس میں یہ بیان کیا کہ پھر خدا اپنے بندے کو بلاتا ہے اور جونہی اُس کی قوتیں رہ جاتی ہیں خدا خود دوڑ کر اُس کی طرف آتا اور اُس وقت وہ طالب اور بندہ مطلوب ، خدا محب اور بندہ محبوب بن جاتا ہے۔یہ دعا کا مقام ایسا بلند مقام ہے جو زمین اور آسمان کو ہلا دیتا ہے۔جہاں قبولیت اور عدم قبولیت کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔قبولیت ہوتی اور بہت ہوتی ہے مگر اس شخص کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی وہ صرف ایک ہی بات جانتا ہے اور وہ یہ کہ میرا کام یہ ان ہے کہ میں اپنے رب سے مانگتا رہوں۔تم اگر سچی محبت کے انسانی نظائر پر ہی غور کرو تو تمہیں یہ مثال وہاں بھی نظر آ جائے گی۔ہاں حقیقت کی آنکھیں کھول کر دیکھو پھر تمہیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی عظیم الشان سبق پنہاں نظر آئیں کی گے۔تم نے بچہ کو اپنی ماں سے چھٹتے کئی دفعہ دیکھا ہوگا۔تم دیکھتے ہو کہ بچہ کی با ہیں اس کی ماں کے گلے میں ہوتی ہیں، اُس کا سینہ اپنی ماں کے سینہ سے لگا ہوتا ہے اور وہ اپنی ماں سے اتنازیادہ قریب ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ قریب ہونا ناممکن ہوتا ہے۔مگر پھر بھی وہ کہتا جاتا ہے کہ اماں ! اماں۔وہ کیوں اماں ! اماں! کہہ رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ ماں کے پاس ہی ہوتا ہے۔وہ اسی لئے باوجود قریب ہونے کے اماں ! اماں! کہتا ہے کہ ماں کو پکارنا اب اُس کی غذا بن گیا ہے اور اسی پکار میں اُس کی تمام راحت ہوتی ہے۔یہی حال ایک سچے سالک کا بھی ہوتا ہے۔جس شخص کو خدا تعالیٰ سے حقیقی محبت ہوتی ہے وہ ضرورت کیلئے خدا تعالیٰ سے نہیں مانگتا بلکہ مانگنے کیلئے مانگتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کا سائل ہی بنا رہے۔تم نے اپنے گھروں میں اور ی خود اپنی ذات میں اس بات کا کئی دفعہ تجربہ کیا ہو گا کہ جب کوئی فقیر تمہارے دروازے پر آتا اور کہتا ہے مجھے کچھ خیرات دو تو تم اُسے کچھ دے دیتے ہو۔اس کے بعد وہ چلا جاتا ہے اور تم اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہو۔لیکن اگر وہ نہ جائے اور دروازہ پر کھڑا رہے تو تم اُسے کہتے ہو اب جاتے کیوں نہیں میں نے تمہیں خیرات دے دی ہے۔یہی روحانی خلش اور یہی روحانی خوف ایک خدا کے مُحبّ کے دل میں بھی ہر وقت رہتا ہے کہ اگر میری ایک ضرورت پوری ہوگئی اور دوسری دفعہ میں نے خدا تعالیٰ سے نہ