خطبات محمود (جلد 18) — Page 100
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء ہزاروں لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، ان لوگوں سے بھی جو دعائیں کرتے ہیں اور ان لوگوں سے بھی کی جو دوسروں کو اپنے لئے دعا کی تحریک کرتے ہیں اس لئے میں اپنے تجربہ کی بناء پر جانتا ہوں کہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں جو دعا خدا تعالیٰ کا امتحان لینے اور یہ دیکھنے کیلئے کرتے ہیں کہ آیا خدا ہماری کی بات سنتا ہے یا نہیں سنتا۔پس گو وہ ظاہر ادعاؤں پر یقین رکھتے ہیں مگر ان کا یقین کسی یقین کی بنیاد پر نہیں بلکہ شک پر ہوتا ہے۔جاؤ اور اپنے ہمسایوں اور اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں سے پوچھ دیکھو کہ کیا آپ دعائیں کرتے ہیں؟ وہ یہی کہیں گے کہ بہت کیں بہت ہی کیں مگر آخر معلوم ہوا کہ خدا ہی کوئی نہیں جو دعائیں سنتا ہو یا کہیں گے کہ خدا بھی کوئی دعا نہیں سنتا۔حالانکہ دعا کے معنے اس کامل تعلق ، اس کامل محبت اور اُس کامل اخلاص کے ہیں جو بندہ کو خدا تعالیٰ سے پیدا ہو جاتا ہے۔پھر جب دعا اُس تعلق کا نام ہے جو بندہ کا اپنے رب سے ہوتا ہے تو کوئی شخص کس طرح کہہ سکتا ہے میں نے دعائیں کیں مگر ان کا کوئی فائدہ نہ دیکھا۔کیا تم نے کبھی کسی آنکھوں والے انسان کو دیکھا ہے کہ وہ کہتا ہو میں نے سورج کو دیکھا، بہت دیکھا اور بہت ہی دیکھا مگر آخر معلوم ہوا کہ سورج میں بھی روشنی نہیں۔کیا تم نے کسی عورت سے سنا کہ وہ کہتی ہو میں نے آگئیں جلائیں ، بہت جلائیں اور بہت ہی جلائیں مگر آخر معلوم ہوا کہ آگ میں بھی گرمی نہیں۔کیا تم نے کسی پیاسے کے منہ سے کبھی یہ کلمات سنے کی ہیں کہ میں نے پانی پیا، بہت پیا اور بہت ہی پیا مگر آخر معلوم ہوا کہ پانی بھی پیاس نہیں بجھا تا۔تم کیوں یہ فقرے لوگوں کی زبان سے نہیں سنتے۔اس لئے کہ جس شخص نے پانی کا تجربہ کیا وہ پانی کا انکار نہیں کرسکتا۔جس نے سورج کو دیکھا وہ سورج کا انکار نہیں کر سکتا۔اور جس نے آگ کو جلتے دیکھا وہ اُس کی گرمی کا انکار نہیں کر سکتا۔پھر اگر دعا نام ہے اُس مقام کا جس مقام پر کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ سے انسان کا انتہائی تعلق پیدا ہو جاتا ہے تو کیا اس سے زیادہ احمقانہ بات بھی کوئی ہوگی کہ کہا جائے میں نے دعا ئیں کیں، بہت کیں اور بہت ہی کیں مگر آخر معلوم ہوا کہ کوئی خدا نہیں جو دعائیں سنے۔کیا ان الفاظ کا مفہوم کی اگر سیدھی سادی عبارت میں بیان کیا جائے تو یہ نہیں ہوگا کہ ہم نے خدا سے دوستی کی ، دوستی کی اور بہت ہی کی مگر آخر معلوم ہوا کہ خدا کوئی نہیں۔اگر اُس نے دعا سے قبل خدا تعالی کو پالیا تھا جس کو دیکھتے ہوئے اُس نے اُس سے دوستی کی تھی اور اُس سے دعائیں کیں تو دعا کے قبول ہونے یا نہ ہونے سے اُسے اُس کے وجود میں شک کیونکر پیدا ہو گیا۔اور اگر اُس نے خدا تعالیٰ کو پایا ہی نہیں تھا تو وہ کس طرح کہہ سکتا ہے