خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 99

خطبات محمود ۹۹ سال ۱۹۳۷ء نتیجہ کی امید رکھنا نہایت بیوقوفی اور حماقت خیال کیا جاتا ہے۔اور بہت سے لوگ جو دعاؤں کے قائل ہیں اور دعائیں کرتے ہیں وہ بھی درحقیقت دعا کو ایک تمسخر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دیتے اور ان میں۔ننانوے فیصدی بلکہ ہزار میں سے ۹۹۹ ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اُن کی دعائیں ایک تو ہم ، ایک تخیل ، ایک تمسخر، ایک تک بندی اور اندھیرے میں تیر چلانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ہزار ہا دعا ئیں کرنے کی والے یا دوسروں کو اپنے لئے دعاؤں کی تحریک کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ یا دوسرے عزیز واقارب سے دعا کا ذکر سنا ہو ا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے وہ دوسروں کو دعا کیلئے کہنا سوسائٹی کا ایک فیشن سمجھتے ہیں۔اور جو نبی کسی دسرے سے ملتے ہیں بغیر دعا کی حقیقت کو سمجھنے کے کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی دعا کیجئے۔ہزاروں آدمی احمد یوں ، غیر احمد یوں بلکہ ہندوؤں اور سکھوں میں سے بھی جب مجھے ملتے ہیں تو جاتے ہوئے بے ساختہ کہہ دیتے ہیں ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیئے مگر جب وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یادر کھیئے تو میں انفس محسوس کرتا ہے کہ ان کا دل دعاؤں کی عظمت سے واقف نہیں۔وہ زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیئے۔مگر ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ محض ان کو خوش کرنے کیلئے ہم کہہ رہے ہیں ورنہ دعا کوئی چیز نہیں اور نہ اسے کسی قسم کی اہمیت حاصل ہے۔ہزاروں ہیں جو رسماً اسلام کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے یا رسما ہندو مذہب کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے یا رسما سکھ مذہب کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے دعائیں کرتے ہیں۔کبھی ہاتھ اُٹھا کر کبھی سر جھکا کر کبھی کھڑے ہو کر کبھی بیٹھ کر کبھی آگ کے آگے ہاتھ پھیلا کر، کبھی سمندر کی طرف منہ کر کے اور کبھی سورج کی طرف آنکھیں اٹھا کر۔مگر جب دعا کے الفاظ اُن کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک عبادت ہے جو ہم بجالا رہے ہیں۔ایک فرض ہے جو ہم ادا کر رہے ہیں۔اور یہ کہ اس کے نتیجہ میں ہمیں کچھ نہ کچھ مل جائے گا لیکن انہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ دعا کی کیا حقیقت ہے اور دعازمین و آسمان میں تغیر پیدا کرنے میں کس قدر عظیم الشان اثر رکھتی ہے۔پس ی دنیا میں دعا کرنے والے بہت مل جائیں گے مگر دعاؤں پر یقین رکھنے والے اور دعاؤں کی حقیقت سمجھنے والے بہت ہی کم لوگ ملیں گے۔پھر وہ لوگ جود عا پر یقین رکھتے ہیں ان میں بھی سنجیدہ طبقہ بہت کم نظر آتا ہے اور ان قلیل لوگوں میں سے کثیر حصہ ایسا ہوتا ہے جو دعا خدا تعالیٰ سے ٹھیکہ کے طور پر کرتا ہے۔مجھے چونکہ سینکڑوں نہیں