خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 88

خطبات محمود ۸۸ سال ۱۹۳۷ء عملی نمونہ سے اسلامی تعلیم کی برتری ثابت کریں، خالی تقریر میں کوئی اثر نہیں کرتیں۔ایک انسان اگر تقریریں اسلامی تعلیم کی فضیلت پر کرتا ہے لیکن وہ یا اُس کا ہمسایہ مغربی اثرات اور مغربی رو میں بہا چلا جاتا ہے تو اس کی تقریروں کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا اور اُس کی کوششیں سب بیکار ہو جائیں گی۔کوشش وہی کامیاب ہوتی ہے جو عملی رنگ میں کی جائے۔کیونکہ اس کا دوسرے کے دل پری گہرا اثر ہوتا ہے اور دشمن بھی اسلامی تعلیم کی عظمت کا اظہار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پس دعاؤں میں اپنی توجہ اس طرف بھی مبذول کرو اور یاد رکھو کوئی دین کا قدم ایسا نہیں ہوسکتا جو تین سال کے بعد ہٹالیا جائے۔یہ پہلا قدم ہے جو اُٹھایا گیا اور یہ پہلا زینہ ہے جس پر پاؤں رکھا گیا اور اس کے بعد اور قدم اور ان زینے ہیں۔پس کوئی دینی تحریک ایسی نہیں ہو سکتی جو تین سال کے بعد ختم ہو جائے۔ہاں اس کی شکلیں کی بدل جاتی ہیں۔کبھی اُن حصوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے جن پر پہلے کم دیا جا تا تھا اور کبھی ان حصوں پر کم زور دیا جاتا ہے جن پر پہلے زیادہ زور دیا جاتا تھا۔پھر کبھی اور انواع پر زور دیا جاتا ہے اور کبھی اور انواع پر۔بہر حال دین کی ترقی کیلئے مومن کی کوشش اُس کی موت تک ختم نہیں ہوتی۔بلکہ دین کی ترقی کیلئے کوشش کسی قوم کی موت تک بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ گو قوم مر جائے گی جس نے دین اور اصلاح عالم کیلئے کی جد و جہد چھوڑ دی۔لیکن اُس کی قبر پر خدا تعالیٰ ایک اور قوم کا درخت اُگا دے گا جو نئے سرے سے اور نئے جوش سے اس کام میں لگ جائے گی۔یہی اُس کی قدیم سے سنت ہے اور یہی سنت دنیا کے آخر تک رہے گی۔(الفضل ۹ را پریل ۱۹۳۷ء ) یونس :۷۲ الفرقان: ۲۴