خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 644

خطبات محمود ۶۴۴ سال ۱۹۳۷ء کہ ہمارے اخلاق اس تمثیل کے صاحب کی طرح ہیں۔مثلاً کوئی عقاب کی تصویر گرد والیتا تھا اور اس کا مطلب یہ ہوتا کہ میں دشمن پر عقاب کی طرح جھپٹتا ہوں اور اُسے اُٹھا کر لے جاتا ہوں۔یا سانپ کی کی تصویر گدوالی جس کے معنے یہ ہوتے کہ میں سانپ کی طرح دشمن کو ڈس لیتا ہوں اور پھر وہ بچ نہیں سکتا۔یہ ای شخص جس کی کہاوت ہے اُس کو یہ وہم تھا کہ میں بڑا بہادر ہوں اور اُس نے سوچا کہ سب سے زیادہ بہادر تو شیر ہوتا ہے اس لئے مجھے اپنے جسم پر شیر کی تصویر گرد والینی چاہئے۔چنانچہ وہ گدوانے والے کے پاس گیا اور اسے کہا کہ شیر کی تصویر گود دو۔اُس نے جب سوئی ماری کہ نشان کر کے اس میں سرمہ بھرے تو اس نے پوچھا کہ کون سا حصہ گودنے لگے ہو؟ اس نے کہا کہ دایاں کان۔وہ کہنے لگا پہلے یہ بتاؤ کہ اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو وہ شیر رہتا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا رہتا تو ہے۔اس پر وہ کہنے لگا کہ بس پھر یہ چھوڑ دو۔اس نے پھر سوئی ماری تو اس نے پوچھا اب کیا گودتے ہو؟ اس نے کہا بایاں کان۔کہنے لگا اچھا یہ بتاؤ کہ اگر شیر کا بایاں کان نہ ہو تو وہ شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا رہتا تو ہے۔کہنے لگا کہ بس پھر یہ بھی چھوڑ دو۔اس کے بعد اُس نے پھر سوئی ماری تو اس نے پوچھا کہ اب کیا گود تے ہو؟ اس نے کہا کہ دُم۔کہنے لگا اگر دم نہ ہو تو کیا شیر نہیں رہتا ؟ اس نے کہا رہتا تو ہے۔اس پر وہ کہنے لگا کہ بس پھر دم بھی چھوڑ دو۔اسی طرح بعض اور اعضاء کے گودنے کے متعلق بھی اس نے ایسا ہی کہا۔اس پر گودنے والا سوئی رکھ کر بیٹھ گیا۔اس نے پوچھا کہ گود تے کیوں نہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ بس اب شیر کا کچھ نہیں رہ گیا۔کیونکہ جب نہ کان ہوں نہ دم نہ ٹانگیں تو شیر کارہ کیا گیا۔دراصل یہ مثال اخلاقی حالت بیان کرنے کیلئے ہے۔جو شخص یہ سوچتا رہتا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہو تو میں احمدی رہ سکتا ہوں یا نہیں اور وہ نہ ہو تو رہ سکتا ہوں یا نہیں ، اس کی احمدیت باقی نہیں رہ سکتی۔باقی اُسی کی رہتی ہے جو یہ خیال کرتا رہتا ہے کہ اگر یہ بات بھی شامل ہو جائے تو میری احمدیت اور اچھی ہو جائے گی اور اگر فلاں بھی کر سکوں تو اور بھی اچھی ہو جائے گی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں درس دے رہا تھا کہ ایک رئیس وہاں آکر بیٹھ گیا۔میں پڑھا رہا تھا اور میں نے بتایا کہ دوزخ دائگی نہیں بلکہ ایک وقت یہ سزا منقطع ہو جائے گی اور جنت حاصل ہو جائے گی اس پر وہ کہنے لگا کہ پھر یہ تو بڑا مزا ہے۔ہم اس دنیا میں بھی عیش کی کرتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی تھوڑی سی سزا کے بعد جنت حاصل کر لیں گے۔آپ فرماتے تھے کہ وہ ا