خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 637

خطبات محمود ۶۳۷ ۳۹ سال ۱۹۳۷ء احمدی نوجوانوں سے خطاب حصولِ مقصد کیلئے جماعت اپنی ذہنیت میں تبدیلی کر لے فرموده ۱۷؍ دسمبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے پچھلے خطبہ میں جلسہ سالانہ کے ذکر پر یہ کہا تھا کہ اسلامی تعلیم انسان کی نیکی اور پاکیزگی کے متعلق یہی ہے اور اسی کو تصوف اور روحانیت کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی نیکیوں کو جمع کرنے کی کوشش کرے۔جو شخص کسی ایک شق کو لے لیتا ہے اور اسی پر زور دیتا چلا جاتا ہے اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دین کی خاطر اور نیکی کیلئے کرتا ہے یا محض عادت کے ماتحت۔ہویا بنی نوع انسان کے اخلاق کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاق اور نیکیوں کے لحاظ سے بھی انسانوں کی فطرتیں خاص خاص میلان رکھتی ہیں۔قطع نظر اس سے کہ وہ بات ان کے مذہب کی تعلیم ہو یا وہ اس فلسفہ کا حصہ ہو جس کی وہ اتباع کر رہے ہوں۔انسانی طبائع مختلف میلانات رکھتی ہیں اور یہی چیزی دراصل تہذیب اور تمدن کی جڑ ہوتی ہے۔اگر طبائع میں اختلاف نہ ہو اور مختلف میلان نہ ہوں تو دنیا میں تنوع اور قسم قسم کی چیزیں کبھی نظر نہ آئیں۔سارے لوگ ایک ہی پیشہ کو اختیار کریں ، سارے ایک ہی غذا کھانے لگیں، سارے ایک ہی قسم کا لباس پہنیں اور سب ایک ہی کام کرنے لگ جائیں تو دنیا کا قائم رہنا مشکل ہو جائے۔یہ اختلاف دنیا میں اتنا جاری وساری ہے کہ ایک گھر کے رہنے والوں میں اور ایک ماں باپ کی اولاد میں بیٹوں بیٹوں اور لڑکیوں لڑکیوں میں اس قدر اختلاف ہو جاتا ہے کہ بعض اوقار