خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 624

خطبات محمود ۶۲۴ سال ۱۹۳۷ء مکانات کا قومی ضروریات کے پیش آنے پر دے دینا کسی کو گراں نہ گزرے، ایسے مکانات یقیناً با برکت ہیں اور وہ جتنے بھی بڑھتے جائیں اُتنا ہی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کی نعمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ہاں جو مکان ایسا ہو کہ اُس کا خدمت دین کیلئے پیش کرنا انسان کو دوبھر ہو یا غریبوں کو دینا انسان پر شاق گزرتا ہو تو وہ مکان رحمت کی بجائے انسان کے لئے لعنت بن جاتا ہے۔پس دوستوں کو جہاں تک ہو سکے جلسہ سالانہ کیلئے اپنے مکانات دینے چاہئیں اور انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس وقت بھی خدا تعالیٰ نے انہیں قادیان میں مکان بنانے کی توفیق دی تھی تو اسی لئے دی تھی تو کہ وہ اپنا مکان خدمت دین کیلئے پیش کر کے ہر سال زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرتے رہیں۔پھر اس موقع پر اپنے نفوس کو بھی خدمت دین کیلئے پیش کرنا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ انسان جب تک ہر قسم کی قربانی نہ کرے وہ ہر قسم کی برکات حاصل نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص فلاں عبادت میں زیادہ حصہ لے گا وہ جنت کے فلاں دروازہ سے گزارا جائے گا اور جو فلاں عبادت میں زیادہ حصہ لے گا وہ فلاں دروازہ سے گزارا جائے گا۔اسی طرح آپ نے مختلف عبادات کا نام لیا اور فرمایا ای جنت کے سات دروازوں سے مختلف اعمال حسنہ پر زیادہ زور دینے والے لوگ گزارے جائیں گے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اس مجلس میں بیٹھے تھے۔انہوں نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللَّهِ! مختلف دروازوں سے تو وہ اس لئے گزارے جائیں گے کہ انہوں نے ایک ایک عبادت پر زور دیا ہوگا ، لیکن يَا رَسُولَ اللهِ! اگر کوئی شخص ساری عبادتوں پر ہی زور دے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔آپ نے فرمایا وہ جنت کے ساتوں دروازوں سے گزارا جائے گا۔اور اسے ابو بکر ! میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی انہی میں سے ہوں گے۔2 اب ان دروازوں سے اینٹوں اور لکڑیوں والے دروازے مراد تو نہیں ہو سکتے۔کیونکہ اگر یہی دروازے مراد ہوں تو پھر اس میں کون سی عزت ہو سکتی ہے کہ بجائے ایک دروازہ مراد کے سات دروازوں سے کسی کو گزارہ جائے۔اگر ہم کسی مکان میں داخل ہونا چاہیں اور مالک مکان بجائے ایک دروازہ سے اندر لے جانے کے پہلے ہمیں ایک دروازہ سے اندر لے جائے پھر دوسرے سے، پھر تیسرے سے ، پھر چوتھے سے ، پھر پانچویں سے، پھر چھٹے سے اور پھر ساتویں سے تو اس میں ہماری کون سی عزت ہوگی۔اس سے تو سوائے اس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا کہ ہماری لاتیں ٹوٹیں اور ہم تھک کر رہ جائیں۔پس اگر جنت میں بھی ساتوں دروازوں سے گزارنے سے مرا د ساتوں دروازوں