خطبات محمود (جلد 18) — Page 563
خطبات محمود ۵۶۳ سال ۱۹۳۷ء کہ بادشاہ آپ ہیں پہلا پتھر آپ پھینکیں اس کے بعد ہم پھینکیں گے۔بادشاہ نے کہا یہ ٹھیک ہے مگر شریعت کا تمہیں ہی علم ہے اور تمہارا ہی حق ہے کہ ابتدا کرو۔میں تمہارا تابع ہوں گا کیونکہ مجھے علم نہیں کہ یہ سزا جائز ہے یا نا جائز۔اسی دوران میں بادشاہ پھر مولوی عبداللطیف صاحب شہید کے پاس گیا اور کی انہیں کہا کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ دل میں بے شک جو چاہیں بات رکھیں لیکن ظاہر میں کہہ دیں کہ میں تو بہ کرتا ہوں تا ملک میں جو شور ہے وہ دور ہو جائے۔میں ان مولویوں سے کہہ دوں گا کہ انہوں نے تو بہ کر لی ہے اور آپ سنگساری سے بچ جائیں گے۔مگر انہوں نے فرمایا میں اس قسم کی با تیں نہیں جانتا۔خدا نے مجھے سچائی دی ہے اور میں اسے کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتا۔تب بادشاہ نے مولویوں سے کہا کہ اب مجبوری ہے۔یہ کسی طرح بھی ہماری بات نہیں مانتے ، تم ان پر پتھر چلاؤ۔چنانچہ انہوں نے چاروں طرف سے آپ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔بعض دیکھنے والے کہتے ہیں کہ جب آپ پر چاروں طرف سے پتھر برسائے جا رہے تھے تو وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ خدایا! میری قوم پر اپنا عذاب نازل نہ کرنا کیونکہ یہ جہالت سے یہ کام کر رہی ہے۔یہ سچائی کا نمونہ ہے جو ہماری جماعت میں بھی موجود ہے اور اس سے پہلے اولیائے اُمت میں بھی اس کے بڑے بڑے نمونے موجود ہیں۔بڑی عمر کے آدمیوں کو جانے دو سید عبدالقادر صاحب جیلانی کو ہی دیکھو۔وہ ابھی بچے ہی تھے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنے ماموں کے پاس ایک قافلہ کے ساتھ بھیجا۔چونکہ ان دنوں سفر میں بہت کچھ مشکلات حائل تھیں اور ڈا کے بڑی کثرت سے پڑتے تھے اس لئے انہوں نے چالیس اشرفیاں ان کی گدڑی میں سی دیں تا اس سرمایہ سے وہ کوئی کام کرسکیں۔یہ قافلہ جب ایک جنگل سے گزر رہا تھا تو اس پر بعض ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور اس کا سب سامان لوٹ لیا۔اتفاقاً کوئی ڈاکو ان کے پاس سے بھی گزرا اور ان سے پوچھا میاں کچھ تمہارے پاس بھی ہے؟ انہوں نے کہاں ہاں چالیس اشرفیاں میرے پاس موجود ہیں۔وہ یہ سن کر حیران سا رہ گیا اور اسے ان کی بات پر یقین نہ آیا کیونکہ انہوں نے گدڑی پہنی ہوئی تھی اور غربت کے آثار ظاہر تھے۔چنانچہ وہ کہنے لگا مخول نہ کر تیرے پاس چالیس اشرفیاں کہاں سے آسکتی ہیں اور یہ کہ کر وہ انہیں چھوڑ کر چلا گیا۔پھر کسی دوسرے ڈاکو نے ان سے یہی سوال کیا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا مگر اسے بھی ان کی بات پر یقین نہ آیا۔آخر کسی نے