خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 541

خطبات محمود ۵۴۱ سال ۱۹۳۷ء اوسط عمر ساٹھ سال ہو وہ اعلیٰ درجہ کی تندرست قوم تھی۔ورنہ ہمارے ملک میں تو پچاس فیصدی لوگوں کا بھی اس عمر کو پہنچنا ناممکن ہے۔انشورنش والے انسانوں کی عمروں کے اعداد و شمار نکالتے رہتے ہیں اور ان کا اندازہ ہے کہ صرف پندرہ فیصدی لوگ ساٹھ سال یا اس سے اوپر پہنچتے ہیں۔ان حالات میں ۲۰۱۵ سال کے بعد ہماری جماعت میں صحابیوں کا ملنا مشکل ہوگا۔مگر ہم نے ابھی تک وہ علوم دنیا میں قائم نہیں کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے ملے تھے۔صحابہ کرام کو اِس کا اِس قدر جنون تھا کہ وہ جب بھی بیٹھتے کہتے آؤ رسول کریم ﷺ کی باتیں کریں اور انہوں نے آپ کا کھانا پینا، بیٹھنا اُٹھنا ، سونا جاگنا غرضکہ آپ کی ہر قسم کی حرکات و سکنات کو اس طرح محفوظ کر دیا کہ آج بیسیوں کتابیں احادیث اور تاریخ کی بھری پڑی ہیں۔تاریخ کی دس دس اور پندرہ پندرہ جلدوں کی باریک لکھی ہوئی بیسیوں کتا بیں موجود ہیں اور احادیث کی کتابیں ان کے علاوہ ہیں۔احادیث کی کئی کتابیں تلف بھی ہو چکی ہیں۔اگر چہ ان میں درج شدہ حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں یا تفاسیر میں آگئی ہیں۔میں سمجھتا ہوں رسول کریم کی زندگی اور سیرت کے حالات کی کتابیں اور احادیث اگر جمع کی جائیں تو تین چار سو نیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔جن میں سے ہر ایک جلد پانسو صفحات کی ہو۔اگر ایسی تین سو جلدیں بھی ہوں تو یہ ڈیڑھ لا کھ صفحات ہوں گے اور جتنے بڑے صفحات عام طور پر عربی کی کتابوں کے ہوتے ہیں وہ انسان ایک گھنٹہ کی میں دس بارہ پڑھ سکتا ہے۔روزانہ چھ گھنٹہ کی پڑھائی رکھی جائے تو دن میں ستر صفحات کی اوسط بنتی ہے اور ایک مہینہ میں دو ہزار ایک سو صفحات کی اور ایک سال میں چھپیں ہزار صفحات کی۔گویا سب کام چھوڑ کر بھی کی ایک آدمی کا چھ سال پڑھنے کے بعد ان کتب پر عبور ہو سکتا ہے۔لیکن چونکہ انسان کو کتاب کے سمجھنے کیلئے کبھی غور کی ضرورت ہوتی ہے، کبھی دوسری کتب کے مطالعہ کی کبھی لغت کی اس لئے درحقیقت وقت اس سے دو گنا بلکہ تگنا خرچ ہوتا ہے۔یہ تو عام لیاقت کے آدمیوں کا حال ہے۔لیکن جو لوگ تیز پڑھنے والے ہیں اور زیادہ محنت کر سکتے ہیں ان کے لحاظ سے بھی سرسری تلاوت پر تین سال اور غور کر کے اور سمجھ کر پڑھنے پر چھ سال سے نو سال خرچ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ اور کوئی کام نہ کریں۔غرض صحابہ کرام نے اتنا ذخیرہ چھوڑا ہے کہ آج ہمیں بہت ہی کم یہ خیال آ سکتا ہے کہ کاش! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بات ہمیں معلوم ہوتی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات ، اقوال اور واردات کا بہت ہی کم حصہ محفوظ ہوا۔ا ہے۔