خطبات محمود (جلد 18) — Page 530
خطبات محمود ۵۳۰ سال ۱۹۳۷ء میں وہ خلیفہ کی طرفداری کریں گے اور میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر کہ وہ بھی ان کے گہرے دوستوں میں سے تھے ان کے متعلق انہوں نے یہ کہا کہ مجھے ان کے فیصلہ پر اس لئے تسلی نہیں کہ ان کی مرزا گل محمد صاحب نے جو خلیفہ کے چچا کے بیٹے ہیں ایک ضمانت دی ہوئی ہے۔اب اگر احمدیوں کے ایمان اتنے کی کمزور ہیں کہ ان میں سے کوئی اس لئے صحیح فیصلہ نہ کرے کہ مجھے جماعت کی طرف سے مقدمات ملتے ہیں ، اگر میں نے جماعت کے خلاف فیصلہ کیا تو مقدمات ملنے بند ہو جائیں گے۔اور کوئی اس لئے صحیح فیصلہ نہ کرے کہ میرے چچا کے بیٹے نے ان کی ایک ضمانت دی ہوئی ہے تو ایسے لوگوں کے اندر شامل رہنے سے فائدہ کیا ہے۔میں نے تو نہایت دیانتداری سے ان دونوں کو اس کا دوست سمجھ کر اس فیصلہ کیلئے مقرر کیا تھا مگر انہوں نے اس کمیشن کے سامنے اس لئے اپنے مطالبات پیش کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ دونوں ہمارے زیر اثر ہیں۔اس کے مقابلہ میں مصری صاحب کے ایک اور دوست مصباح الدین صاحب کے متعلق جب کمیشن مقرر کیا گیا تو میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ لوگ ان لوگوں پر جو جماعت سے کوئی ملا زمت وغیرہ کا تعلق رکھتے ہوں، اعتراض کرنے کے عادی ہیں ایسے آدمی مقرر کئے جنہیں جماعت سے کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ان میں سے ایک میر محمد بخش صاحب امیر جماعت احمدیہ گوجرانوالہ تھے۔انہوں نے کبھی بھی جماعت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا اور جماعت نے کسی مقدمہ میں انہیں کبھی فیس نہیں دی۔دوسرے دوست چوہدری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری تھے انہیں بھی کبھی جماعت سے کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچا۔مگر جب ان دونوں کو میں نے مقرر کیا اور انہوں نے مصباح الدین صاحب کو بیان کیلئے بلایا تو انہوں نے کہا کہ اگر خلیفہ خود مجھ سے جواب طلب کرے تو میں جواب دے سکتا ہوں ، کسی اور کا ان امور سے کیا تعلق ہے۔مجھے جب یہ بات پہنچی تو میں نے جواب دیا کہ جب وہ سلسلہ پر اعتراض کرنے لگے تھے تو کیا انہوں نے خلیفہ سے اجازت لے لی تھی ؟ اگر ان میں اتنا ہی اخلاص تھا تو چاہئے تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کا بھی خلیفہ وقت کے سوا اور کسی کے سامنے ذکر نہ کرتے۔جب اعتراض کرنے کا وقت تھا اُس وقت تو اوروں کے سامنے ہی اعتراض ہوتے رہے مگر جب جواب دینے کا وقت آیا تو کہہ دیا کہ میں خلیفہ کے سوا اور کسی کو جواب نہیں دے سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کے دل میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ نہ مانوں نہ مانوں کی وو رٹ لگا تا رہتا ہے۔جب کمیشن میں شیخ مصری صاحب کے دوست مقرر کئے گئے تو انہوں نے کہہ د