خطبات محمود (جلد 18) — Page 515
خطبات محمود ۵۱۵ سال ۱۹۳۷ء ہے ورنہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ، اُس کے حضور تو بہ کرتا اور اس سے درخواست معافی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی بخشش اُس کو ڈھانپ لیتی ہے اور نہ صرف اُس کے گناہوں کو بھول جاتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی بھلوا دیتی ہے۔سبھی خدا تعالیٰ کا نام ساتر نہیں بلکہ ستار ہے اور ستار وہ ہوتا ہے جس میں صفت ستر کی تکرار اور شدت آئی جائے۔دنیا صرف ساتر ہو سکتی ہے یعنی یہ ہوسکتا ہے کہ اگر کسی کو کسی کے گناہ کا علم ہوتو وہ اُسے بیان نہ کرے مگر وہ دوسروں کے ذہن سے کسی کے گناہ کا علم نہیں نکال سکتا۔مگر خدا تعالیٰ چونکہ قادر ہے اس لئے اُس نے کہا کہ میں ساتھ نہیں بلکہ ستار ہوں۔یعنی میں صرف یہی نہیں کرتا کہ بندوں کے گناہ معاف کر دیتا ہوں بلکہ میں لوگوں کے ذہنوں سے بھی ان گناہوں کی یاد نکال دیتا ہوں اور انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ فلاں نے کبھی فلاں گناہ کیا تھا۔اگر خدا تعالیٰ ستار نہ ہوتا تو گنہگار کیلئے جنت میں بھی امن نہ ہوتا۔وہ ہر شخص کی طرف دیکھتا اور کہتا اس کو میرے گناہ کا علم ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ کہ فرمایا کہ میں ستار ہوں اور میں نہ صرف لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہوں بلکہ لوگوں کے حافظوں پر بھی تصرف کرتا ہوں۔یہاں تک کہ دوسروں کو اس کا گناہ یاد ہی نہیں رہتا۔اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی ہمیشہ سے ہی نیک تھا۔یہ ہمیشہ سے ہی پاکیزہ خصائل رکھنے والا تھا۔تو ہمارا واسطہ ایک ستار العیوب اور غفار الذنوب خدا سے ہے۔جو نہ صرف ہمیں بخشنے کیلئے تیار ہے بلکہ وہ ہماری کھوئی ہوئی عزت ہمیں واپس دینے اور اسے دوبارہ دنیا میں قائم کر دینے کیلئے آمادہ ہے۔وہ نہ صرف مزید عزت دیتا بلکہ پہلی بدنامی کو بھی دور کر دیتا ہے۔ایسے خدا کی خاطر جو ہماری عزت کا اتنا خیال رکھتا ہے کونسی قربانی ہے جو بڑی ہو سکتی ہے۔یقیناً اس کی خاطر ہر قربانی حقیر اور ذلیل ہے اور اس کیلئے ایک عزت کیا اگر ہزار عزتیں بھی قربان کرنی پڑیں تو وہ گراں نہیں ہوسکتیں کیونکہ عزتیں اُسی کی طرف سے آتی ہیں اور ذلتوں کو بھی وہی دور کرتا ہے۔پس دعائیں کرو اپنے لئے ، سلسلہ کیلئے اور ان تمام روکوں کے دور ہونے کیلئے جو ترقی سلسلہ کی راہ میں حائل ہیں تا اللہ تعالیٰ ہمارے قصوروں اور ہماری غلطیوں کو معاف کرے اور ہمارے اندر ایسی طاقت پیدا کر دے کہ جس طاقت سے کام لیتے ہوئے ہم اس کے دین کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کر سکیں اور اُس کے دین کے بچے خادم بن جائیں۔ایسے خادم جن کے دلوں میں رات دن یہی خیالات موجزن رہیں کہ اس کے دین کو بلند کریں۔اس کے نام کو اونچا کریں اور اُس کی عزت کو غالب کریں۔اور ہمارے اعمال میں اپنے فضل سے ایسی طاقت اور قوت بھر دے کہ دشمنوں کی طاقت اور قوت ہمار۔