خطبات محمود (جلد 18) — Page 498
خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۷ء یہ غالباً ستمبر ۱۹۱۳ ء کا رویا ہے جس پر آج ۲۴ سال اور دو ماہ گزرتے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف ان سے اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ عارضی روکوں سے اصل مقصد کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔دشمن کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصد سے پھیر دے۔ڈرا کر ، لالچ دلا کر اور گالیاں دے کر وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے مقصد کو بھول جائیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور جواب میں گالیاں دینے لگی جاتے ہیں۔اس سے کئی طرح کے نقصان ہوتے ہیں۔میں جماعت کے تین چار افراد کو جانتا ہوں جن کو اسی وجہ سے ٹھوکر لگی کہ وہ دشمن کی گالیوں کے جواب میں گالیاں دیتے تھے۔چنانچہ فخر الدین صاحب ملتانی نے جو بیان دیا، اس میں تسلیم کیا تھا کہ میں نے سید عزیز اللہ صاحب کی معرفت پتہ کرایا کہ حضرت صاحب مجھ پر کیوں ناراض ہیں۔تو معلوم ہوا کہ میرے ان مضامین کی وجہ سے جو " فاروق“ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ خوش ہوتے کہ میں ان کو نیکی کا رستہ بتا تا ہوں اس بات سے ان کے دل میں گرہ بیٹھ گئی۔اگر میں دنیا دار لوگوں کی طرح ہوتا تو ان مضامین پر خوش ہوتا اور اُن کو شاباش دیتا کہ تم نے خوب پیغامی جماعت کو گالیاں دیں۔مگر میں اپنی ایسی تائید کو بھی پسند نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو اسی بات سے ان کے دل میں بال آ گیا اور جس چیز میں بال آجائے وہ آخر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے۔میں نے بارہا دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ اعلیٰ اخلاق دکھا ئیں۔میں مانتا نان ہوں کہ بعض اوقات سختی کرنی پڑتی ہے مگر اس کا رنگ اور ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بعض اوقات سختی کی ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے اور جب خدا تعالیٰ سختی کا حکم دے تو نتیجہ کا بھی وہ خود ذمہ دار ہوتا ہے۔جب وہ اپنے نبی سے کہتا ہے کہ سختی کرو تو ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ جو اس کا جواب دے گا، میں اس کا منہ توڑ دوں گا لیکن ہمارے لئے اس نے ایسا نہیں کہا۔نبی کی نقل شرعی امور میں ضروری ہوتی ہے لیکن خاص امور میں اس کی نقل کرنا بے ادبی ہے۔نماز ایک عام حکم ہے۔روزہ ایک عام حکم ہے۔یہ شرعی احکام ہیں ان میں اگر ہم نبی کی نقل نہ کریں تو یہ گناہ ہے۔معاف کرنا اور عفو سے کام لینا شرعی احکام ہیں، ان میں نبی کی اتباع جتنی ہو سکے کرنی چاہئے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ نبی سے کہے کہ دنیا کو چیلنج کرو کہ میرا مقابلہ کرے تو یہ چیلنج کوئی شرعی چیز نہیں ہوگی بلکہ خاص حکم ہوگا اور اس میں اگر ہم نبی کی نقل کریں تو گویا اس کا منہ چڑانے والے ہوں گے۔کئی لوگ مجھے بھی کہتے ہیں کہ آپ اس قسم کا