خطبات محمود (جلد 18) — Page 497
خطبات محمود ۴۹۷ سال ۱۹۳۷ء کاموں میں لگ گئے اور آخر دنیا کے ہر گوشہ میں انہوں نے شکست کھائی۔پس اپنے مقصود کو بھلا دینا بڑی نادانی ہے۔جس سے انسان کو ہمیشہ نا کامی کامنہ دیکھنا پڑتا ہے۔جو شخص اپنے مقصد کو فراموش کر دیتا ہے وہ گویا خود اپنے پاؤں کاٹتا ہے۔ہمارے سلسلہ کا مقصد دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کرنا ہے اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی قائم کرنا ہے جو نیکی اور تقویٰ سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔یہ تو نہیں کہ خدا تعالیٰ پہلے دنیا کی بادشاہت سے محروم ہے اور ہم نے اس کیلئے لندن کا یا دہلی کا تخت حاصل کر کے کہنا ہے کہ لیجئے حضور یہ ہم نے آپ کے لئے حاصل کیا ہے۔یہ بادشاہت تو اسے پہلے ہی حاصل ہے وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے دنیا میں تغیر پیدا کر سکتا ہے۔کوئٹہ اور بہار کے زلزلے صاف ثابت کر رہے ہیں کہ دنیا پر اس رنگ میں حکومت کی اسے حاصل ہے۔پس جس بادشاہت کیلئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے وہ دلوں پر ایمان اور تقویٰ کی بادشاہت ہے۔یہی نذرانہ اور یہی ہدیہ ہے جو ہم پیش کر سکتے ہیں اور جس کا مطالبہ ہم سے کیا گیا ہے۔اگر کسی وقت کی بھی ہم اس مقصود کو بھول جائیں تو ہماری تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔کیونکہ وہ غیر مقصود کیلئے ہوں گی۔اس لئے ہم کبھی مقصود کو نہیں پاسکیں گے۔ایک شخص لا ہور جانا چاہتا ہے مگر چلتا ہے وہ بیاس کی طرف تو وہ لاہور نہیں پہنچ سکے گا۔دنیا کے گرد پچیس ہزار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ممکن ہے لاہور آ جائے مگر یہ اور بات ہے۔دنیا میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں، جھگڑے بھی ہوتے ہیں ، جوش اور غصہ بھی دلایا جاتا ہی ہے مگر کسی حالت میں بھی ہمیں اپنے مقصود کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔۱۹۱۳ء میں میں شملہ کے مقام پر تھا کہ میں نے رویا دیکھا کہ میں ایک پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں۔کوئی کہتا ہے کہ رستہ میں شیطان اور ابلیس مختلف طریقوں سے تمہیں ڈرا ئیں گے۔مگر تم کوئی خیال نہ کرنا اور خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ کہتے ہوئے چلتے جانا۔9966 چنانچہ جب میں چلا تو میں نے دیکھا کہ قسم قسم کے وجود ظاہر ہو کر مجھے ڈراتے ہیں۔کوئی تو وجود انسان کا ی مگر سر ہاتھی کا ہے۔کوئی شیر کا دھڑ اور سر انسان کا ہے۔کہیں خالی دھڑ ہی ہیں اور کہیں خالی سر ہی ہیں۔کبھی وہ گالیاں دیتے ہیں اور کبھی اور مختلف ذرائع سے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔مگر میں ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا ہوا چلا جاتا ہوں اور کسی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا اور آخر منزل مقصود پر پہنچ گیا۔9966