خطبات محمود (جلد 18) — Page 426
خطبات محمود ۴۲۶ سال ۱۹۳۷ء کی اس سنت کے پورا ہونے کا وقت آگیا کہ جب کوئی نبی مرتا ہے تو اس کی روح اس کی جماعت میں ڈال دی جاتی ہے ، وہ کمزور اور ناقص جماعتیں ، وہ بُز دل جماعتیں کروٹ لیتی ہیں اور ان کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ ایمان کے ایسے زبردست مظاہرے کرتی ہیں کہ ان کی زندگیوں کے دونوں حصوں کو دیکھ کر انسان کیلئے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ایک ہی جماعت کے دو کارنامے ہیں۔پہلے اس کی کمزوری کا اظہار تھا اور اب اس طاقت کی نمائش۔کیا عجیب بات ہے کہ وہ جماعتیں جن کی پہلی کمزوریوں پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ تو اپنے نبی کی جدائی کے بعد اس قدیم سنت اللہ کے ماتحت ایسے زبر دست ایمان کو ظاہر کرتی ہیں مگر ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کا یہی دعوی تھا کہ میری جماعت حضرت مسیح ناصری کی جماعت سے بہت زیادہ قربانی کرنے والی اور بہادر ہے اور مجھے وہ ایسا جواب نہیں دیتی جیسا کہ حضرت موسیٰ کی قوم نے اُن کو دیا تھا۔اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جبکہ صحابہ مسیح موعود علیہ السلام ابھی ہم میں زندہ موجود ہیں وہ گمراہی اور ضلالت میں پڑ گئی ہے اور جرات و بہادری اس سے کھوئی گئی ہے۔کوئی نوکریوں کی خاطر ، کوئی زمینوں کی خاطر، کوئی مکانوں کی خاطر، کوئی دُکانوں کی خاطر ، کوئی چند سیر آٹے کی خاطر، کوئی تھوڑے سے تعلیمی وظیفہ کی خاطر، کوئی صرف نمائشی عہدہ کی خاطر ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر جمع ہے جس کی اور کی نسبت اسی فیصدی کو یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کو تباہ کر رہا ہے اور سلسلہ کی برکات کو مٹا رہا اور اس کے نظام کو برباد کر رہا ہے ، وہ خاموش ہے اور رسول کریم ﷺ کے الفاظ میں گونگے شیطان کی طرح خدا تعالی کی عمارت کو گراتے ہوئے دیکھتی ہے مگر بُزدلوں اور خناثے لا کی طرح نہ وہ منہ سے اظہار نفرت کرتی ہے اور نہ ہاتھ سے اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔نہ کسی اور تدبیر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔گویا کہ وہ ایک مُردہ ہے جو گل سڑ گیا اور اب سوائے لوگوں کی ناکوں کو بُو سے تکلیف دینے کے اب اس میں کوئی فائدہ کی بات نہیں رہی۔اگر یہ بات صحیح ہے تو یقیناً الْعَيَاذُ بِاللهِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے تھے کیونکہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا۔اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ مسیح موعود مرا اور پھر مر ہی گیا۔اس کی روح دنیا سے اٹھالی گئی اور اس کی صداقتیں کچل دی گئیں اور نیکی و تقویٰ جس کے قائم کرنے کیلئے یہ جماعت کھڑی ہوئی تھی اس کی چادر اس سے چھین لی گئی۔ایک حصہ کی اپنی بد عملی کی وجہ