خطبات محمود (جلد 18) — Page 393
خطبات محمود ۳۹۳ سال ۱۹۳۷ء دوست نے کسی اور تقریب پر آپ کو بلایا تھا۔جس وقت آپ وہاں سے واپس آرہے تھے تو وزیر خان کی تی مسجد یا سنہری مسجد کے قریب بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔مفتی محمد صادق صاحب بھی اُن دنوں وہیں قریب رہتے تھے اور میاں تاج دین صاحب وہیں رہتے تھے۔میں نہیں جانتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن میں سے کس دوست کے مکان پر تشریف لے گئے تھے۔بہر حال جب واپس آئے تو مسجد کے قریب بہت بڑا ہجوم تھا اور جو نبی لوگوں نے آپ کی گاڑی دیکھی انہوں نے تالیاں پیٹنی شروع کر دیں۔بعض گالیاں دینے لگ گئے ، بعض نے آپ کے خلاف نعرے لگائے اور شور سے آسمان سر پر اٹھالیا۔شاید یہ نظارہ میرے ذہن سے اُتر جاتا اور میں اس واقعہ کو بالکل بھول جاتا مگر بچپن کی عمر کے لحاظ سے ایک بات میں نے ایسی دیکھی کہ جس نے اس نظارہ کے نقوش کو بہت گہرے طور پر میرے دماغ پر ثبت کر دیا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑھا شخص جس کی داڑھی ناف تک پہنچ رہی تھی ، ۷۵-۸۰ سال اس کی عمر ہوگی ، اُس کا قد لمبا اور جسم دُبلا پتلا تھا۔اس نے اپنے ایک ہاتھ پر زرد زرد پٹیاں باندھی ہوئی تھیں جس سے معلوم ہوتا کج تھا کہ اُس کا ہاتھ زخمی ہے اور ہاتھ پہنچے کے آگے سے کٹا ہو اتھا۔اپنے اس ٹنڈ کو دوسرے صحیح ہاتھ پر مار رہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ ہائے ہائے مرزا ، ہائے ہائے مرزا۔اپنے بچپن کے لحاظ سے یہ نظارہ میرے لئے ایک عجیب نظارہ تھا کہ ایک شخص کا ہاتھ کٹا ہوا ہے اور اُس پر ہلدی وغیرہ اس نے باندھی ہوئی ہے مگر وہ اپنائنڈ دوسرے ہاتھ پر مارتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے ہائے ہائے مرزا، ہائے ہائے مرزا۔بے شک ، چیزیں ہوئیں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان باتوں کو دیکھ کر خوش ہوئے اور وہ اپنے دل میں کہتے ہوں گے کہ دیکھا ! ہم نے احمدیوں کا کیسا ناطقہ بند کیا ، ان کو کیسا ذلیل اور کیسا رُسوا کیا۔مگر دنیا کی نگاہوں میں جو ذلت ہو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک عزت ہوتی ہے اور دنیا کی نگاہوں میں جو عزت ہو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ذلّت ہوتی ہے۔جس وقت وہ تمام لوگ ہنسی کر رہے تھے ، جس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے ساری دنیا میں تبلیغ احمدیت کے راستے بند کر دیئے ہیں۔اُس وقت ہر گالی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مل رہی تھی۔وہ آپ کے انعامات اور خطابات اور القابات کی فہرست میں لکھی جا رہی تھی۔آخر یہ ان گالیوں کا ہی نتیجہ ہے جو ہم یہاں بیٹھے ہیں اور کس بات کا نتیجہ ہے۔پس وہ جتنا جتنا کہتے ہائے ہائے مرزا، ہائے ہائے مرزا یعنی نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مر گئے ہیں اور وہ آپ کا سیا پا کر رہے ہیں۔اُتنا ہی فرشتے کہتے آپ