خطبات محمود (جلد 18) — Page 376
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء بلکہ اگر کوئی کبھی مجھ سے اس کے متعلق کوئی ذکر بھی کرتا تو میں اسے روک دیتا اور کہتا کہ یہ جائز نہیں۔ابھی حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے ایک حلفی بیان شائع کرایا ہے جس میں لکھا ہے کہ ” حضرت خلیفہ اول بیمار تھے اور مجھے گوجرانوالہ ایک مباحثہ پر جانے کا حکم ہوا۔مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے تو کہنے لگے حافظ صاحب آپ سفر پر جاتے ہیں اور مولوی صاحب بیمار ہیں۔خلیفہ بنانے میں جلدی نہ کرنا۔میں نے یہ بات حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے سامنے پیش کی کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا حافظ صاحب ! اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنا دے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا“۔تو میں نے آگے آنا نہیں چاہا تھا ، میں پیچھے ہٹتا تھا مگر خدا کے ہاتھ نے مجھے پکڑا اور کہا کہ جب ہم کام لینا چاہتے ہیں تو تو پیچھے رہنے والا کون ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کر دیا۔اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم خوش نہیں ہیں مگر میں کہتا ہوں تمہاری خوشی کا سوال ہی کیا ہے۔اگر تم خوش نہیں ہو تو جاؤ اس سے لڑوجس نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔اگر تم میں کچھ طاقت اور زور ہے تو اُس کے پاس جاؤ اور اس سے اُس تائید اور نصرت کو بند کرا دو جو مجھے مل رہی ہے۔مگر میں ہر ایسے شخص کو بتادیتا ہوں کہ اسے سوائے نا کامی و نامرادی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اور خدا کے سلسلوں پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔آج بے شک تم اتنے لوگ میرے ساتھ ہو مگر اُس وقت کون تھا جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا۔بے شک قادیان کے اکثر لوگوں نے بیعت کر لی تھی لیکن باہر کی بہت سی جماعتیں مترڈ تھیں۔بڑے بڑے کارکن سب مخالف تھے ، خزانہ خالی تھا اور مخالفت کا دریا تھا جو انڈا ہوا چلا آ رہا تھا۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اُس وقت میں اس کی نصرت سے کامیاب ہوا۔اس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کیلئے آیا اور اسی نے دوسرے دن مجھ سے وہ ٹریکٹ نکلوایا کہ ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا جس طرح حنین کی لڑائی کے موقع پر جب رسول کریم ﷺ کی طرف سے یہ آواز بلند کرائی گئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اور صحابہ بیتاب ہو کر اُس آواز کی طرف بھاگے بلکہ جن کے گھوڑے نہیں مُڑتے تھے انہوں نے اُن کی گردنیں کاٹ دیں اور پیدل دوڑے ہے اسی طرح جب میری آواز باہر پہنچی مترو د جماعتوں کے دل صاف ہو گئے اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ بیعت کرنے لگیں۔وہی خدا جو اُس وقت فوجوں کے ساتھ تائید کرنے آیا آج میری مدد پر ہے اور اگر آج تم خلافت