خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 375

خطبات محمود ۳۷۵ سال ۱۹۳۷ء صدرالدین صاحب بیٹھے تھے۔جب میں دروازہ میں پہنچا تو دیکھا ان کے چہروں کے رنگ اُڑے ہوئے ہیں۔میں گھبرایا کہ خدا خیر کرے۔میں نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا اور مجھے یاد نہیں حضرت خلیفہ اول نے جواب دیا یا نہیں اور فرمایا میاں! تم بھی اب ہمارے خلاف منصوبوں میں شامل ہوتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں میں تو کسی ایسے منصوبہ میں شامل نہیں ہوا؟ آپ نے فرمایا یہ لوگ بیٹھے ہیں۔میں نے ایک مکان کے متعلق کہا تھا کہ وہ فلاں شخص کو دے دیا جائے اور ان لوگوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا ہے اور میرے پوچھنے پر کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔میں نے کہا یہ بالکل خلاف واقعہ امر ہے۔ان لوگوں نے یہ معاملہ پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شخص کم قیمت دیتا ہے۔میں نے کہا حضرت خلیفہ اول کا منشاء ہے کہ اسی کو دیا جائے۔اس پر ڈاکٹر محمد حسین صاحب نے کہا کہ ہم لوگوں کو تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ہم لوگ ٹرسٹی ہیں اور جماعت کے اموال کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اعتمادی بنایا ہے دین کیے ن کیلئے ہمیں جہاں سے زیادہ رقم ملے لے لینی چاہئے۔میں نے کہا کہ حضرت خلیفہ اسیح سے زیادہ تقویٰ کا خیال کون رکھ سکتا ہے۔اگر ان کے نزدیک کم قیمت پر اس شخص کو دے دینا ضروری ہے تو میرے نزدیک یہی تقویٰ ہے۔مگر یہ کہنے لگے کہ حضرت خلیفہ اسیح نے اجازت دے دی ہے۔میں نے کہا کہ ان کی تحریر دکھا ئیں۔اس پر انہوں نے آپ کی ایک تحریر دکھائی جس میں لکھا تھا کہ میں نے وہ مشورہ دیا تھا جو میرے نزدیک صحیح تھا لیکن اب میں وہ مشورہ واپس لیتا ہوں جس طرح چاہو کرو۔یہ دیکھ کر میں نے کہا یہ اجازت تو نہیں ناراضگی کی تحریر ہے اس لئے اگر آپ لوگوں کا پہلے ارادہ بھی کسی اور کو دینے کا تھا تو اب رُک جانا چاہئے۔لیکن اس کے جواب میں انہوں نے پھر کہا کہ تقوی سے کام لینا چاہئے اور میں یہ کہہ کر کہ میرے نزدیک تقویٰ وہی ہے جو حضرت خلیفتہ اسیح پسند کرتے ہیں، خاموش ہو گیا۔حضرت خلیفہ اول نے ان سے پوچھا کہ یہ بات ٹھیک ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ٹھیک تو ہے مگر انہوں نے منع بھی نہیں کیا۔اس پر حضرت خلیفہ اول جوش میں آگئے اور فرمایا کہ تم لوگ مجھے اس پر ناراض کرنے کی کوشش کرتے ہو!۔یہ بڑی عمر کا تھا یا تم ! اس نے کہہ دیا کہ اطاعت کرو اور کیا کرتا تم لوگوں کے ہاتھ پکڑ لیتا !! غرض حضرت خلیفہ امسیح الاول کو مجھ سے بدظن کرنے کی جو تدابیر بھی ممکن تھیں یہ لوگ انہیں اختیار کرتے رہتے تھے مگر خدا کی مشیت نے پورا ہو کر رہنا تھا۔انسانوں نے سارا زور لگایا اور خلافت کے جتنے دروازے ان کے نزدیک تھے وہ مجھے پر بند کرنے کی کوشش کرتے رہے۔حالانکہ میرے تو ذہن میں بھی کبھی خلافت کا خیال نہ آیا تھا کی