خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 331

خطبات محمود ٣٣١ سال ۱۹۳۷ء کرے گا اور جو شخص اس اقرار کو توڑ دے اُسے اگر مرتد نہیں تو اور کیا کہا جائے گا۔مرتد کے معنی ہیں واپسی جانے والا۔پس جو بیعت کو توڑ دے اُسے مرتد ہی کہا جا سکتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے غیر احمدی کہتے ہیں کہ ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔حالانکہ کافر کے معنی ہیں نہ ماننے والا۔اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں مانتا اسے ہم مومن کس طرح کہہ دیں۔اگر ہم ان سے پوچھیں کہ کیا آپ لوگ مرزا صاحب کے دعوی ماموریت کو مانتے ہیں؟ تو وہ یہی کہیں گے کہ نہیں۔پس چونکہ نہ ماننے والے کو عربی میں کافر کہتے ہیں کسی مدعی ماموریت کو جب کوئی نہ مانے تو اُسے کافر کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔اسی طرح اگر بیعت کرنے کے بعد کوئی واپس لوٹے تو اُسے مرتد کے سوا اور کیا کہا جائے گا۔رسول کریم ہے کے بعد عرب میں اکثر لوگ نمازیں بھی پڑھتے تھے، روزے بھی رکھتے تھے۔صرف زکوۃ کے متعلق انہیں شبہ تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف رسول کریم ﷺ کے زمانہ تک ہی کیلئے حکم تھا مگر پھر بھی ان کو مرتد ہی کہا جاتا تھا۔پھر یہ لوگ اندر ہی اندر سازش کر رہے تھے۔میاں عبد العزیز کا فوراً الگ ہو جا نا بتاتا ہے کہ وہ پہلے ہی ان کے ہم خیال ہو چکے تھے۔اور فخر الدین صاحب کے اخراج پر مصری صاحب کا نوٹس دینا بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ پہلے ہی جتھے بنا رہے تھے اور اندر ہی اندر فتنہ پیدا کر رہے تھے۔پھرا ایسے لوگوں کو اگر فتنہ پرداز نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔پھر آیت استخلاف میں خلافت کی بیعت کے بعد ا نکار کرنے والوں کو فاسق کہا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر لطیفہ یہ ہے کہ کہتے ہیں ہمیں منافق نہ کہا جائے۔لیکن اسی اشتہار میں جس میں امارت کا اعلان بھی کیا گیا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت میں رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ ملنا چاہے، اُس کا نام پوشیدہ رکھا جائے گا۔گویا وہ صرف منافق ہی ہے نہیں بلکہ منافق گر ہیں۔وہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ تم بظاہر خلیفہ کی بیعت میں رہو اور خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عہد کر لو کہ ہم ہر ایک نیک بات میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے۔سَمْعًا وَّ طَاعَةً کے نعرے بھی لگاؤ ، مگر در پردہ ہم سے ملے رہو اور پھر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہمیں منافق نہ کہو۔یہ تو صحیح ہے کہ جس جماعت کا کوئی نظام نہ ہو اُس کے افراد خُفیہ بیعت کر سکتے ہیں جیسے کہ سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خفیہ بیعت کی اجازت دی تھی۔مگر شاہ صاحب کسی اور پیر کے مرید تو نہ تھے وہ ایک آزاد آدمی تھے ان کی خفیہ بیعت کسی عہد کو باطل نہ کرتی تھی۔ایسے شخص کو اگر کوئی مجبوری ہو تو اختیار ہے کہ چاہے اپنے عقیدہ کو ظاہر کرے اور چاہے چُھپائے۔مگر ظاہر میں کسی اور کے ساتھ بیعت کا