خطبات محمود (جلد 18) — Page 330
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء شروع کیا ہے کہ فتنہ خوابیدہ تھا تم نے اسے بیدار کیا اور بیدار کرنے والے پر خدا کی لعنت ہو اور ابھی کہتے ہی ہیں کہ میں گالیاں نہیں دیتا۔اس کے جواب میں ہم بھی حضرت خلیفہ اول کی طرح یہی کہتے ہیں کہ ہاں آپ نے گالی نہیں دی ہماری ہی غلطی ہے۔ان لوگوں کی طرف سے ایک دستی اشتہار آج ہی مجھے دفتر نے بھیجا ہے جس میں مصری صاحب کی امارت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ہمیں اس سے خوشی ہے کیونکہ جو شخص جماعت میں تفرقہ پیدا کرے اسے خدا تعالیٰ خود سزا دیتا ہے۔اور یہ اعلان کر کے انہوں نے اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ الہی سزا کے مستحق ہو گئے ہیں۔اس اعلانِ امارت کے ساتھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی سزا کو کھینچا ہے دور نہیں کیا۔اسی اشتہار میں ان کی پارٹی کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ دیکھو! ہمیں مرتد ، منافق ، فاسق وغیرہ الفاظ سے پکارا جاتا ہے، ایسا نہ کیا جائے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے تو انہیں ان ناموں سے نہیں پکارا بلکہ ہمارے آدمیوں نے تو صرف اُن کی اپنی باتیں دُہرائی ہیں۔پکارنے والا تو ابتدا کرنے والا ہوتا ہے۔انہوں نے مجھے مرتد قرار دیا ، معزول کرنے کے لائق کہا حالانکہ میں تو خلیفہ ہوں۔رسول کریم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جب تک تم اپنے دُنیوی بادشاہ میں کفر بواح نہ دیکھو اس کی اطاعت کرو گے اللہ تعالیٰ خودا سے سزا دے گا اور اس لحاظ سے مصری صاحب نے گویا یہ کہا ہے کہ مجھ میں کفر بواح یعنی گھلا گھلا پایا جاتا ہے۔باقی رہافتنہ پرداز کہنا، سو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اپنے پہلے خط میں ہی انہوں نے مجھے فتنہ پرداز کہا ہے اور پھر فَتَبَيَّنُوا والی آیت مجھ پر چسپاں کر کے مجھے فاسق قرار دیا ہے۔پھر مجھے منافق بھی کہا ہے یہ کہہ کر کہ میں جماعت کو دہریت کی طرف لے جا رہا ہوں حالانکہ بظاہر اسلام سے تعلق ظاہر کرتا ہوں۔پس یہ ثابت ہے کہ پہل انہوں نے کی اور انہوں نے جو کچھ ہمارے متعلق کہا جماعت نے اُسے دُہرا دیا ہے۔وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں تو میں جماعت کو بھی آئندہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دوں گا مگر پہلے وہ تو بہ کریں پھر ان کا حق ہوگا کہ ہم۔ت ایسا مطالبہ کریں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے بیعت توڑی ہے اور ہر جماعت کی اصطلاح میں ایسے شخص کو مرتد کہتے ہیں۔بیعت میں یہ اقرار ہوتا ہے کہ مبائع کامل فرمانبرداری اور گلی طور پر تعاون