خطبات محمود (جلد 18) — Page 329
خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۷ء اس اشتہار کے مضمون کے مطابق اسی آیت کی طرف مصری صاحب کا اشارہ ہوسکتا ہے۔گویا مصری اپنے اس اشتہار میں جماعت کو یہ کہہ رہے ہیں کہ اے احمد یو! خلیفہ نے لکھا ہے کہ میں نے عزت کا دعویٰ کیا ہے اس کی اس بات کو سُن کر تمہیں چاہئے تھا کہ خلیفہ سے کہہ دیتے کہ اے فاسق ! ہم تیری بات کو نہیں مانتے۔ہم پہلے تحقیق کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ تم سچ کہتے ہو یا جھوٹ۔مصری صاحب اس طرح نہ یہ کہ مجھے فاسق قرار دیتے ہیں بلکہ ساری جماعت کو تلقین کرتے ہیں کہ اسے بھی میری نسبت یہی عقیدہ رکھنا چاہئے لیکن ابھی ان کے نزدیک وہ گالی نہیں دیتے۔پھر اسی اشتہار میں انہوں نے میرے متعلق لکھا ہے کہ غلط بات منسوب کرنے والا 9966 جماعت کی عقل اور اخلاص سے کھیلنے والا ، تقویٰ سے کوسوں دور ، صریح غلط بیانی کرنے والا ، پر فریب رستہ اختیار کرنے والا۔مگر ان سب باتوں کے باوجود مصری صاحب نے کوئی گالی نہیں دیا اور جماعت احمد یہ بلا وجہ انہیں گالیاں دے رہی ہے۔ان کے اس عجیب رویہ پر مجھے حضرت خلیفہ اول کا ایک لطیفہ یاد آ گیا۔آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ فلاں شخص جو آپ کی مجلس میں بیٹھتا ہے وہ گالیاں بہت دیتا ہے اس کو سمجھا ئیں۔جب وہ شخص آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ آپ نیک آدمی ہیں ، ہمارے ملنے والے ہیں مگر کسی نے شکایت کی ہے کہ آپ گالیاں بہت دیتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔تو وہ ماں کی گالی دے کر کہنے لگا کون ایسا ویسا کہتا ہے کہ میں گالیاں دیتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میں اس کا اس زور سے انکارسن کر حیران ہی ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ بیچارہ معذور ہے۔اسے معلوم ہی نہیں کہ گالی کے کہتے ہیں اور میں نے اسے کہا کہ میری غلطی تھی آپ کو ہر گز گالیاں دینے کی عادت نہیں ہے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول کے ایک معالج تھے اُن کو بہن کی گالی دینے کی بہت عادت تھی۔ایک دفعہ جب وہ حضرت خلیفہ اول کے زخم کی مرہم پٹی کر ہی رہے تھے کہ میں وہاں پہنچا۔میں نے پوچھا ڈاکٹر صاحب ! زخم کا کیا حال ہے؟ تو وہ زخم کو بہن کی گالی دے کر کہنے لگے کہ یہ اچھا ہی ہونے میں نہیں آتا۔اس مجلس میں تو ہم نے ان سے کچھ نہ کہا مگر بعد میں سمجھایا کہ آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح کی مجلس میں یہ کہہ دیا تھا، ایسا تو نہیں چاہئے تھا۔تو وہ اس گالی کو وہی گالی دے کر کہنے لگے کہ یہ منہ سے نکل ہی ہے جاتی ہے یہی حال مصری صاحب کا ہے۔چھ گالیاں ایک اشتہار میں دی ہیں اور پہلا خط ہی اس طرح