خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 31

خطبات محمود ۳۱ سال ۱۹۳۷ء جائے تو اس سے دین کی طرف سے پوری بے رغبتی ہو جاتی ہے اور اشاعت اسلام میں فوراً فرق آجاتا ہے۔اگر مولوی محمد علی صاحب کتابیں لکھیں، انہیں بچیں اور ان کی آمد اپنی ذات پر خرچ کریں تو یہ عین دین ہے۔لیکن اگر میاں نذر محمد مستری غریبوں اور قیموں کو کام سکھلائیں اور میری یا کسی اور کی نگرانی میں کام ہو تو یہ بے دینی ہے۔گویا جب کارخانوں کی آمد یا کتابوں کی آمد یا بعض اور آمد نیاں مولوی محمد علی صاحب کے پاس جائیں تو یہ دین ہے لیکن جس دن وہ آمد کسی بیوہ کو ملنے لگے اُسی دن سے اشاعت اسلام کے کام میں رُکاوٹ پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔میں اگر کتا بیں لکھ کر سلسلہ کو دے دوں اور اس کی آمد بھی سلسلہ کے مفاد کیلئے ہی خرچ ہو تو یہ میری غفلت اور بے ایمانی لیکن اگر مولوی محمد علی صاحب کتابیں لکھ کر خود نفع کمائیں تو یہ دین کی خدمت اور اسلام کی اشاعت۔لائل پور والے اگر کارخانے کی جاری کریں اور بڑی بڑی رقمیں مولوی محمد علی صاحب کو بھجوائیں تو یہ جائز لیکن اگر قادیان میں غرباء کیلئے کارخانے جاری کر دئیے جائیں تو دین میں فرق آجاتا ہے، حالانکہ اسلام نام ہی ہے ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا۔جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر آیا ہوں بدر کی جنگ کے بعد جب قیدی آئے تو رسول کریم یا یا اس کی نے اُن قیدیوں سے فرمایا کہ ہم تم سے کوئی فدیہ نہیں لیتے تم مدینہ کے بچوں کو پڑھا دیا کرو۔وہ قیدی آخر انہیں قرآن نہیں پڑھاتے تھے، یہی لکھنا پڑھنا سکھاتے تھے اور لکھنا پڑھنا بھی ویسا ہی کام ہے جیسے لوہارا یا ترکھانا۔پھر اگر اپنے سکول جاری کرنے سے دین کی خدمت کا جذبہ کم نہیں ہوتا تو ترکھانے یا لو ہارے کا کام سکھانے سے دین کی خدمت کا جذبہ کیوں کم ہو جاتا ہے۔اس کا تو یہ مطلب ہے کہ ہم اگر کسی کو الف ب پڑھا ئیں تو یہ دین کی اشاعت ہے اور اس سے اسلام میں کوئی فرق نہیں آسکتا لیکن اگر ہم کسی یتیم کو پیشہ سکھا دیں تو اس سے دین میں فرق آ جاتا ہے۔چند دن سے غیر احمدی اخباروں میں شائع ہو رہا ہے کہ جرمن کی غیر مبائعین کی مسجد میں بعض دفعہ ٹکٹ کے ذریعہ سے داخلہ ہوتا ہے اس بارہ میں غیر احمدی اخباروں میں بار بار چیلنج شائع ہوتے رہے ہیں لیکن غیر مبائعین نے اس کی کوئی تردید نہیں کی۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر ایک مذہبی لیکچر کے بدلہ میں پیسے وصول کرنے سے اشاعتِ اسلام میں فرق نہیں آتا تو بُوٹ یا گرسی بنا کر اگر پیسے لئے جائیں اور وہ غرباء پر خرچ کئے جائیں یا اشاعتِ اسلام پر خرچ کئے جائیں تو اس سے اشاعت اسلام میں فرق کیوں آجاتا ہے۔پھر یا د رکھو کہ اسلام نام ہے زندگی کے تمام شعبوں کو درست رکھنے کا۔رسول کریم ہے۔