خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 262

خطبات محمود ۲۶۲ سال ۱۹۳۷ء مجمع دیکھے تو لازماً کچھ لوگ دائیں طرف ہوں گے اور کچھ بائیں طرف۔پھر کیا یہ کہا جا سکے گا کہ ان میں سے آدھے جنتی ہیں اور آدھے دوزخی۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ علم تعبیر سے ناواقفیت اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ انسان اتنی معمولی بات کو بھی نہ سمجھے کہ دایاں اور بایاں ایک نسبتی امر ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جب بھی دو شخص خواب میں دیکھے جائیں ان میں سے ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف اور جو چیز لازمی ہو اُس کی تعبیر نہیں کی جاتی۔مثلاً یہ تو ہوسکتا ہے کہ انسان اگر کسی کا صرف ایک پیر دیکھے تو اُس کی تعبیر کرے سر دیکھے تو اُس کی تعبیر کرے لیکن اگر کوئی خواب میں ایک آدمی دیکھے تو اس وقت یہ نہیں کہیں گے کہ اُس کے سر کی بھی تعبیر کرو اور ہاتھ کی بھی تعبیر کرو اور پاؤں کی بھی تعبیر کرو۔ایسی حالت میں تو اگر کوئی خاص نظارہ ہو تو صرف اسی کی تعبیر کی جائے گی۔عام چیزوں کی جن کا تعلق انسان کے ساتھ لازمی ہے ان کی تعبیر نہیں کی جائے گی۔اگر اس امر کو مدنظر نہ رکھا جائے اور محض خواب میں دو شخصوں کو آتے دیکھ کر جن میں سے ضروری ہے کہ ایک دائیں طرف ہو اور دوسرا بائیں طرف یہ نتیجہ نکالا جائے کہ ایک جنتی ہے اور دوسرا دوزخی تو اس صورت میں اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہما السلام آرہے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مثلاً دائیں طرف ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام بائیں طرف تو نَعُوذُ بِاللهِ کہنا پڑے گا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جنتی ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام دوزخی ، کیونکہ یہ شیخ صاحب کی بیان کردہ تعبیر ہے۔مگر کیا کوئی بھی عقلمند اس تعبیر کو ماننے کیلئے تیار ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس سے زیادہ کوئی احمقانہ بات بھی اور کوئی ہوگی؟ اگر دائیں اور بائیں میں نمایاں فاصلہ ہو تب بیشک دائیں کی بھی الگ تعبیر ہوتی ہے اور بائیں کی بھی الگ۔مثلاً کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ ایک جماعت دائیں طرف بیٹھی اور دوسری جماعت کچھ فاصلہ پر بائیں طرف ، تو اس وقت ہم کہہ سکتے ہیں کہ کچھ لوگ اصحاب الیمین ہیں اور ی کچھ لوگ اصحاب الشمال۔لیکن جب سب لوگ اکٹھے بیٹھے ہوں اُس وقت یہ کہنا کہ ایک حصہ اصحاب الشمال میں سے ہے اور دوسرا اصحاب الیمین میں سے اور اس لئے کچھ دوزخی ہیں اور کچھ جنتی ، احمقانہ بات ہے۔پھر دائیں بائیں کا جو مفہوم مصری صاحب بتاتے ہیں وہ بھی درست نہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ جب امام کے ساتھ ایک مقتدی ہو تو وہ اُس کے دائیں طرف کھڑا ہو جس کے یہ معنے ہیں کہ مقتدی دائیں طرف ہو اور امام بائیں طرف۔کیا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ شریعت کے مطابق امام