خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 248

خطبات محمود ۲۴۸ سال ۱۹۳۷ء ان سے نہ مل سکتی ہوں وہ ضرور دی جائیں۔اصل بات یہ ہے کہ گزشتہ احراری فسادات کے تجربہ سے یہ امر ظا ہر ہے کہ احمدیوں سے سودا خریدنے میں ہمارے مخالفین کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ وہ ان سے سو دا خریدیں بلکہ وہ کمز ور طبع دُکانداروں کو اپنے ساتھ ملاتے اور ان کے ذریعہ اپنے تعلقات دوسرے منافق کی کواپ طبع لوگوں سے قائم کرتے ہیں اور اس لحاظ سے ہمارا فرض ہے کہ جن دکانداروں کے متعلق ہمیں شبہ ہو کہ وہ ان کے دلال بن سکتے ہیں ان دکانداروں کو نگرانی میں رکھیں۔یوں ان پر کوئی جبر نہیں کرتا وہ دکاندار اگر چاہیں تو الگ ہو سکتے ہیں پھر وہ کسی قاعدہ کے پابند نہ ہوں گے۔پس جماعت نے ایسا ہی انتظام کیا ہے اور حکم دے دیا ہے کہ اگر کوئی ایسی چیز جو ہندوؤں ،سکھوں اور غیر احمد یوں سے نہ مل سکتی ہوا نہیں احمدی دکانداروں سے خریدنی پڑے تو احمدی دکاندار محکمہ کی اجازت سے انہیں سو دا دیں تا ایسے لوگوں سے وہ نہ مل سکیں جو ہمارے اندر رہ کر ہم سے دشمنی کرتے ہیں۔اگر وہ ہمارے اندر سے نکل جائیں تو ہمیں ان کے متعلق کوئی شکوہ نہیں ہو گا لیکن جب وہ ہمارے اندر رہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی تدابیر کو نا کام کریں اور فتنہ کو جس حد تک روک سکتے ہیں روکیں۔اور چونکہ احمدی دکانداروں۔سے سودا خریدنے میں ان کی یہی غرض مخفی تھی جو میں نے بیان کی ہے اور وہ ہمارے انتظام کے ماتحت پوری نہ ہوسکی اس لئے انہوں نے یہ شور مچادیا کہ احمدی دکانداروں کو سو دا دینے سے روکا جاتا ہے حالانکہ یہ کی بالکل جھوٹ ہے۔پھر یہ بھی تو سوچو کہ جو لوگ اتنی بدظنی کر سکتے ہیں کہ بغیر کسی دلیل اور ثبوت کے یہ کہتے جاتے ہیں کہ فلاں نے یہ ظلم کیا اور فلاں نے یہ۔ان سے یہ کوئی تعجب کی بات ہے کہ وہ کسی احمدی دکانداری سے دودھ لے جائیں اور اتفاقاً اس دن ان کے کسی بچہ کو ذرا سا قراقر کے ہو جائے تو وہ یہ شور مچا دیں کہ کی دودھ میں زہر ملا کر دیا گیا ہے۔یا کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی احمدی دُکاندار سے مٹھائی لے جائیں اور اتفاقاً اُسی دن ان کے پیٹ میں بھی درد ہو تو وہ یہ شور مچانا شروع کر دیں کہ ہمیں مٹھائی میں زہر ملا کر دیا گیا ہے۔پس چونکہ وہ باطنی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں اس لئے جھگڑے سے بچنے کیلئے خود ان کیلئے یہ بہتر طریق تھا کہ وہ علیحدہ رہتے اور غیروں کی دُکانوں سے سو دامنگواتے تا انہیں کسی قسم کا شکوہ پیدا نہ ہوتا مگر جب ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اب بھی باوجود یکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا یہ کہتے ہیں کہ میرے خلاف جماعت کو بھڑکا دیا گیا ہے اور مجھے خطرہ ہے کہ میری جان و مال پر کسی وقت حملہ ہو جائے تو ان حالات میں ان کا احمدی دکانداروں سے ہی سو دا خریدنے پر اصرار کرنا جماعت کو بعض الزامات کے