خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۳۷ء غالباً فہرستیں مکمل کر لی ہوں گی مگر بعض محلے ابھی ایسے باقی ہیں جنہوں نے فہرستیں مکمل کر کے نہیں بھجوا ئیں۔اسی طرح میں لجنہ اماءاللہ کو پھر تحریک کرتا ہوں کہ جو کمیٹیاں صرف ایک آدمی پر مبنی ہوں اور وہ ان آدمی جب بیمار ہو تو کام رُک جائے وہ کمیٹیاں دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔کامیاب ہونے والی وہی کمیٹیاں ہوتی ہیں جن کا انحصار آدمیوں پر نہیں ہوتا بلکہ ایک آدمی اگر مرجائے یا کام سے علیحدہ ہو جائے تو فوراً دوسرا آدمی اُس کی جگہ لینے کیلئے تیار ہو جائے۔اور اگر دوسرا آدمی بھی مر جائے یا کام سے علیحدہ ہو جائے تو اُس کی جگہ لینے کیلئے ایک تیسرا آدمی تیار ہو۔غرض زندہ قومیں اور محنت سے کام کرنے الے لوگ کسی ایک انسان سے اپنے آپ کو وابستہ نہیں رکھتے۔صحابہ کو دیکھو جب رسول کریم ﷺ فوت ہوئے تو بعض صحابہ کو خیال آیا کہ اسلام کی اشاعت کا کام اب کس طرح چلے گا ؟ اور بعض تو یہاں تک کہنے لگے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہوں ، وہ زندہ ہیں اور نہیں فوت ہو سکتے جب تک اسلام کامل طور پر دنیا نی میں نہ پھیل جائے۔اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو مخاطب کر کے یہی کہا کہ اے مسلمانو ! اسلام کا کام خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ـ یا درکھو جو اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے اُسے یہ سن کر خوش ہو جانا چاہئے کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔محمد علی ہے گوفوت ہو گئے ہیں لیکن ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ کبھی فوت نہیں ہوسکتا۔وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ سے لیکن جو اسلام سے اس لئے تعلق رکھتا تھا کہ گویا رسول کریم ﷺ کی وجہ سے ہی تمام زندگی ہے آپ فوت ہوئے تو یہ زندگی بھی جاتی رہے گی اُسے سن لینا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے اور اُس کا اسلام بھی ختم ہو گیا۔تو انسانوں کے ساتھ کام کو وابستہ رکھنا بیوقوفی اور حماقت کی بات ہوتی ہے۔آدمی پیدا ہوتے اور مرتے ہی رہتے ہیں مگر خدا تعالی کے کام برابر چلتے چلے جاتے ہیں۔اور ی دراصل ہر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑے سیاستدان ہیں ، ہر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑے جرنیل ہیں۔ہر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑے ڈاکٹر یا حکیم ہیں یہ مسیح الزمان ہو گئے ہیں۔مگر پھر وہ سیاستدان بھی مرتے چلے جاتے ہیں ، وہ جرنیل بھی مرتے چلے جاتے ہیں ، وہ ڈاکٹر اور حکیم بھی جو مسیح الزماں کہلاتے ہیں مرتے چلے جاتے ہیں مگر سیاستوں کے اُلجھے ہوئے