خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 216

خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۳۷ء ہی پھر وہی حالت ہو جاتی ہے۔میں اس بات کو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں۔بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے ایک ہوائی بندوق لے دی اور میں چند اور بچوں کے ساتھ موضع ناتھ پور کی طرف شکار کرنے چلا گیا۔کھیتوں میں ایک سکھ لڑکا ہمیں ملا اور کہنے لگا یہ کیا ہے ؟ ہم نے بتایا کہ بندوق ہے۔وہ پوچھنے لگا اس سے کیا کرتے ہو؟ ہم نے بتایا کہ شکار مارتے ہیں۔اس نے کہا کچھ کی مارا بھی ہے۔ہم نے کہا ہاں ایک فاختہ ماری ہے۔وہ کہنے لگا ہمارے گاؤں میں چلو وہاں بہت سی فاختائیں ملیں گی جو بیر یوں وغیرہ پر بیٹھی رہتی ہیں۔ہم نے اسے کہا کہ گاؤں کے لوگ ناراض تو نہ ہوں گے؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں ناراض کیوں ہوں گے تم لوگوں نے فاختہ ہی مارنی ہے ان کو اس سے کیا۔خیر وہ ہمیں ساتھ لے کر گاؤں میں پہنچا اور ایک درخت پر کچھ فاختائیں بیٹھی ہوئی دیکھ کر کہنے لگا کہ وہ ہیں مارو۔میں نے بندوق چلائی اور غالبا ایک کو مار لیا۔پھر وہ ہمیں آگے ایک اور درخت کے پاس لے گیا اس پر بھی فاختہ بیٹھی تھیں۔وہ کہنے لگا کہ لواب ان کو مارو۔اتنے میں ایک بڑھیا نکلی اور کہنے لگی کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی جیو ہتیا کے کرتے ہو۔اور اپنے گاؤں کے لڑکوں کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ تم بڑے شرم ہو جو د یکھتے ہو اور منع نہیں کرتے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ وہی لڑکا جو ہمیں اپنے ساتھ لایا تھا فوراً بگڑ گیا اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور ہمیں کہنے لگا تم کیوں ہمارے گاؤں میں شکار کرتے ہو؟ ہمیں ساتھ لانا اس کا ایک عارضی اثر کے ماتحت تھا مگر جیو ہتیا کی مخالفت ایک پرانا اثر تھا اور اس کے رونما ہوتے ہی وہ عارضی اثر بالکل زائل ہو گیا اور قطعاً بُھول گیا کہ خود ہمیں اپنے ساتھ لایا تھا۔ہم آنے میں متامل تھے کہ لوگ ناراض نہ ہوں مگر اس نے ہمیں یہ یقین دلایا تھا کہ نہیں کوئی ناراض نہیں ہوگا۔تو بعض مسائل کا اثر دماغ پر بہت گہرا ہوتا ہے اور جب تک دماغ کی اصلاح اس کے مطابق نہ کی جائے یا پھر جب تک اس اصل کی غلطی اس پر پوری طرح واضح نہ کر دی جائے منفر داعمال میں انسان کی اصلاح ناممکن ہوتی ہے۔فرض کرو ایک شخص چوری کرتا ہے مگر کسی ایسے خیال کے ماتحت کہ وہ چوری کو جائز سمجھتا ہے۔اب اس کے اس خیال کو ہم جب تک نہ تو ڑ دیں وہ چوری نہیں چھوڑے گا۔یا ایک شخص کے بیوی بچے بھو کے مررہے ہیں گاؤں والے سنگدل ہیں اور اس کی کوئی مدد نہیں کرتے اس لئے وہ ان کی جان بچانے کی کیلئے چوری کرتا ہے اس کے چوری کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ چوری کو جائز سمجھتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اگر وہ چوری نہ کرے تو اس کے بیوی بچے بھوکوں مر جائیں۔اب اگر اسے کہا جائے کہ چوری بُری چیز ہے ، خدا