خطبات محمود (جلد 18) — Page 217
خطبات محمود ۲۱۷ سال ۱۹۳۷ء اور رسول نے اس سے منع کیا ہے تو ممکن ہے عارضی طور پر اس پر کوئی اثر ہو لیکن جب وہ اپنے بیوی بچوں کو فاقے مرتا دیکھے گا چوری کیلئے تیار ہو جائے گا اور ہماری نصیحت بالکل رائیگاں جائے گی۔کیونکہ ہم نے وہ اسباب تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ وہ چوری کیوں کرتا ہے۔اسے ہم دو طرح ہی چوری سے روک سکتے ہیں۔اوّل تو اس طرح کہ اس پر ثابت کر دیں کہ فاقوں سے مرجانا بہتر ہے بجائے اس کے کہ چوری یا بددیانتی کی جائے۔یا پھر اس طرح کہ اس کے گھر روٹی بھیجنا شروع کر دیں۔جب تک ہم یہ نہ کریں گے وہ چوری نہیں چھوڑ سکتا۔تو بعض اصول ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک ان کی اصلاح نہ کی جائے اور نقطہ نگاہ کو نہ بدل دیا جائے اثر نہیں ہو سکتا۔اور اگر ہو بھی تو عارضی ہوتا ہے جو کچھ روز کے بعد زائل ہو جاتا ہے۔اب میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں کہ کس طرح بعض خیالی اصول انسانی اعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ہندو قوم میں بہت سے اختلاف ہیں۔بعض فرقے ویدوں کو مانتے ہیں بعض نہیں۔بعض گائے کا گوشت کھاتے ہیں بعض نہیں۔بعض پرانوں کے کو مانتے ہیں اور بعض نہیں۔بعض ذات پات کے قائل ہیں اور بعض نہیں۔سادھوؤں کے بعض فرقے ذات پات کو نہیں مانتے۔اسی طرح سادھوؤں کے کے بعض فرقے مُردہ کو جلاتے یا دریا میں پھینک دیتے ہیں اور بعض دفن کرتے ہیں۔مگر ایک اصولی بات کی ان سب میں موجود ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ گناہ معاف نہیں کر سکتا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ گناہ خدا کا قرض ہیں جسے ادا کر کے ہی انسان نجات پاسکتا ہے اور چونکہ انسانی زندگی اتنی لمبی نہیں کہ سب قرض ادا ہو سکے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ انسان جو نہیں بدلتا رہتا ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کا قرض ادا نہیں ہو جاتا اسے نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔یہ خیال ان کے اندر بہت راسخ ہے اور اسے ہی تناسخ کہتے ہیں۔بظاہر یہ ایک فلسفہ ہے، ایک نظریہ ہے جسے عملی زندگی سے تعلق نہیں۔لیکن اگر ہند و قوم کی عملی حالت دیکھی جائے تو وہ ہے ساری کی ساری اسی نظریہ کے ماتحت ہے۔ان میں سود خوری اور پیچھے پڑ کر قرض وصول کرنا اسی کے نتیجہ میں ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب خدا قرضہ معاف نہیں کر سکتا تو ہم کیونکر معاف کر دیں اور جس طرح خدا جونوں میں بھیجتا ہے اسی طرح باپ مر جائے تو بیٹے سے اور ، بیٹے کے بعد پوتے سے وصول کرتے ہیں۔تمام ہند و قوم کا ذہنی نظریہ اسی تناسخ کے عقیدہ کے ماتحت ہے۔مسلمان چونکہ ہندوؤں سے کم میل جول رکھتے ہیں اس لئے بوجہ نا واقفیت سمجھتے ہیں کہ ہند و بخیل ہوتے ہیں ، حالانکہ یہ بات نہیں۔اخباروں کی