خطبات محمود (جلد 18) — Page 2
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء یا درکھنا چاہئے کہ احمدیت کسی انجمن یا سوسائٹی کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کا دوسرا نام ہے اور اسلام ایک وسیع تعلیم کے مجموعہ کا نام ہے جو مذہب کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے اور اخلاق کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے اور تمدن کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے اور سیاست کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے اور معاملات باہمی کے متعلق بھی ہدا یتیں دیتی ہے اور اقتصادیات کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے اور ی نفسیات کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے اور انسانی دماغ کے رُجحانات کے متعلق بھی ہدا یتیں دیتی ہے اور انسانی جذبات کے اُتار چڑھاؤ کے متعلق بھی ہدایتیں دیتی ہے۔غرض آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپری کوئی بات ایسی نہیں جس کے متعلق اسلام کوئی نہ کوئی ہدایت نہ دیتا ہو۔پھر جو شخص احمدیت کو قبول کر کے اس امر پر خوش ہو جاتا ہے کہ میں وفات مسیح کا قائل ہو گیا ہوں یا آنے والے مسیح پر ایمان لے آیا ہوں یا میں نمازیں با قاعدہ پڑھنے لگا ہوں یا میں روزے باقاعدہ رکھتا ہوں یا میں زکوۃ دیتا ہوں یا میں حج اگر مجھے توفیق ہے تو بجالا چکا ہوں اور یہ خیال کرتا ہے کہ گویا اُس نے احمدیت پر عمل کر لیا تو اُس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر میں سے پانی کا ایک گلاس نکال لے اور خیال کرے کہ سمندر میرے قبضہ میں آ گیا ہے۔اگر صرف یہی پانچ سات مسائل اسلام کہلاتے ہیں تو اتنے بڑے قرآن کے نازل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی یہ باتیں تو دو تین رکوع میں آسکتی تھیں۔پس جو شخص ان احکام پر قانع ہو جاتا ہے وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی نسبت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم کچھ حصہ قرآن پر ایمان لائے اور کچھ حصہ کا انکار کرتے ہوئے آخر وہ وسیع تعلیمیں جو اللہ تعالیٰ نے تو حید کے کی بار یک مسائل کے متعلق قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں یا محبت الہی اور توکل کے متعلق بیان فرمائی ہیں یا وہ تفصیلات جو اُس نے اخلاق کے متعلق بیان فرمائی ہیں یا تمدن یا سیاست یا اقتصادیات یا معاملات کے متعلق بیان فرمائی ہیں، اُن پر کون عمل کرے گا۔کیا قرآن کریم کے یہ حصے بیکا ر پڑے رہیں گے؟ کیا ان کی کی طرف توجہ کرنے والے مسلمانوں سے باہر کوئی اور لوگ ہوں گے؟ پس جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کے تمام مطالب اور اس کی تمام تعلیمات کو زندہ کرے خواہ وہ مذہب اور عقیدہ کے متعلق ہوں یا اخلاق کے متعلق ہوں یا اصولِ تمدن اور سیاسیات کے متعلق ہوں یا اقتصادیات کے اور معاملات کے متعلق ہوں۔کیونکہ دنیا ان سارے امور کے لئے پیاسی ہے اور بغیر اس معرفت کے پانی کے وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔خدا نے اسی موت کو دیکھ کر اپنا مامور بھیجا ہے اور وہ امید رکھتا ہے کہ اس مامور کی جماعت