خطبات محمود (جلد 18) — Page 196
خطبات محمود ۱۹۶ سال ۱۹۳۷ء تائید کرے گا۔وہ آپ مشکلات میں ہماری راہنمائی کرے گا اور قرآن ہماری تائید کیلئے اُٹھے گا۔پھر فرمایا وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مغرور نہ ہو۔یعنی یہ نہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے ان سے اپنی نصرت اور مدد کا وعدہ کیا ہے اس لئے وہ اس وعدہ کی وجہ سے مغرور ہو جائیں بلکہ جیسے جیسے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ان کا یقین بڑھتا جاتا ہے اُتنا ہی ان میں عجز ، انکسار اور دعاؤں کا مادہ بھی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ایک طرف ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو للکارتے ہیں اور کہتے ہیں کون ہے جو ہمارا بال بیکا کر سکے کیونکہ خدا نے اُن کو یہی کہا ہوتا ہے لیکن دوسری طرف جب وہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں تو گریہ وزاری ان کا شیوہ ہوتا ہے اور کہتے ہیں اے خدا! تیری مدد کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔یہی وہ کیفیت ہے جو رسول کریم نے بدر کے موقع پر دکھائی۔بدر کی الله جنگ کے شروع ہونے سے پہلے جب رسول کریم ﷺ مدینہ سے باہر نکلے تو آپ نے فرمایا مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہم کو فتح حاصل ہوگی اور دشمنوں کو شکست۔بلکہ مدینہ سے نکلنے سے پہلے آپ کو بشارتیں ملنی شروع ہو گئیں اور آپ نے صحابہ سے کہنا شروع کر دیا کہ گھبراؤ نہیں خدا ہمارے ساتھ ہے۔ہم اس کے فضل سے فتح پائیں گے اور ہمارا دشمن ناکام ہو گا۔لیکن ادھر صحابہ کو آپ نے یہ خبریں دیں اور اُدھر جب جنگ شروع ہوئی تو آپ نے نہایت عجز اور انکسار کے ساتھ اس قدر گڑ گڑا کر دعائیں مانگنی شروع کر دیں کی کہ بعض صحابہ کو حیرت ہوئی اور انہوں نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ایک طرف خدا کہتا ہے کہ ہمیں فتحی حاصل ہوگی اور دوسری طرف آپ اس قدر رو رو کر دعائیں کر رہے ہیں کہ گویا اس کا فتح کے متعلق کوئی وعدہ نہیں یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا یہی مومن کا مقام ہے کہ وہ خدا کے وعدوں کے ہوتے ہوئے اس کے حضور عجز اور انکسار سے کام لیتا ہے۔پس فرمایا۔الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ متقی ایک طرف خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور دوسری طرف اس کے حضور عجز وانکسار اور دعاؤں کی طرف مائل رہتے ہیں۔اس کے بعد ایک تیسری چیز کا ذکر کیا اور فرمایا وَمِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ کے دعاؤں کے ساتھ ان کو وہ تمام تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں جو خدا تعالیٰ نے اس عالم اسباب میں پیدا کی ہیں۔یہ بھی مومن کا کام ہے کہ وہ خیالی دعاؤں سے کام نہیں لیتا بلکہ ظاہری تدابیر سے بھی کام لیتا تای ہے۔کیونکہ اگر دعا کی جائے لیکن ظاہری تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو یہ خدا تعالیٰ کا امتحان لینا ہوتا ہے جو