خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 187

خطبات محمود ۱۸۷ سال ۱۹۳۷ء نے تحریک جدید کا گیارہ ہزار روپیہ ایک نفع مند کام پر لگایا اور سات مہینوں میں دو ہزار روپیہ نفع کا ان کو دلا دیا۔جو سال بھر میں تین ہزار بن جاتا ہے اور تمیں فیصدی کے قریب نفع بنتا ہے۔جب ایک شخص ان کو کی اس قدر کما کر دے سکتا ہے تو وہ خود بھی روپیہ کما سکتا ہے۔اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے کہ کماتا ہوں مگر یہ اعتراض جو کیا گیا اس میں معقولیت کا شائبہ تک نہیں اور اس کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں بنتا کہ میں نے پونے چودہ روپے ماہانہ کیلئے یہ تمام پاکھنڈ مچایا۔غرض ان لوگوں کو جو اس قسم کے اخلاقی حملے کرتے ہیں میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ شاید وہ اس قسم کے اعتراضات سے کسی نا واقف کو دھوکا دے لیں مگر مالی معاملات کے متعلق میں جو بھی کام کرتا ہوں رجسٹروں کے ذریعہ کرتا ہوں۔اس لئے جب بھی کوئی شخص حملہ کرے اسے وہ رجسٹرات دکھائے جاسکتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ میرا ہی دینا نکلے گا میرے ذمہ کسی کا کچھ نہیں نکلے گا۔پس اس قسم کے حملہ کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب ان کے اعتراضات کی حقیقت لوگوں پر کھل گئی ان کیلئے سخت ذلت ورسوائی ہوگی۔باقی میں کبھی لوگوں کے پاس مانگنے نہیں گیا اور میں نے جب بھی کوئی تحریک کی ہے مرضی کی کی ہے۔اگر کسی کا جی چاہتا ہے تو وہ میری تحریکات میں شامل ہوا اور اگر نہیں چاہتا تو نہ ہو۔لیکن اگر کوئی روپیہ دیتا اور پھر اعتراض کرتا ہے تو میں اُس شخص سے کہوں گا کہ تجھے کس نے کہا تھا کہ تو روپیہ دے۔میں تو اُس سے روپیہ مانگتا ہوں جو اگر مجھے دس کروڑ روپیہ بھی دے تو وہ یہ سمجھ کر دے کہ یہ کی رو پیدا اس کے اپنے پاس اتنا محفوظ نہیں جتنا میرے پاس محفوظ ہے۔میں تو کچھ عرصہ سے امانت بھی اپنے پاس نہیں رکھتا، صدرانجمن احمدیہ کے خزانہ میں رکھواتا ہوں۔اسی طرح جس قدر چندے آتے ہیں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جاتے ہیں۔تحریک جدید کا روپیہ بھی اسی کے خزانہ میں ہے اور اسی کے ذریعہ خرچ ہوتا ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہوا ہے کہ تحریک جدید کا روپیہ صدر انجمن میں نہیں کی جاتا ، کہیں الگ چُھپا کر رکھ لیا جاتا ہے۔حالانکہ تحریک جدید کی تمام رقوم پہلے صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ کی میں جاتی اور پھر بلوں کے ذریعہ دفتروں میں جاتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مہ خاص کے اخراجات عام لوگوں سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔لیکن اس مد میں جو میرے ذریعہ سے خرچ ہو ا وہ تین سال میں صرف چار ہزار روپیہ کی رقم ہے اور اس کے مقابل پر اکیس ہزار کی رقم ہمارا خاندان دے چکا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ان معترضوں کی وجہ سے مجھے ان حقائق کو ظاہر کرنا پڑا اور نہ مجھے تو دینی خدمات کا ذکر کر۔