خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 172

خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۷ء شخص کو سمجھانے کی کوشش کروں گا اور اگر وہ نہیں مانے گا تو میں سمجھوں گا ایسا شخص صرف نام کے طور پر احمدیت میں شامل ہے، دل اس کا احمدیت کی صداقت پر ایمان نہیں رکھتا۔پھر ایسے لوگوں کا ہماری جماعت میں شامل رہنا زیادہ مضر ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ نکل جائیں۔اسی طرح نماز با جماعت کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ہر محلے والوں کو چاہئے کہ وہ ہفتہ میں ایک دفعہ علماء سلسلہ کو لے جایا کریں اور ان روزمرہ کام آنے والے مسائل کے متعلق جن کا جانا ہر شخص کیلئے ضروری ہے ، ان سے فظ کرایا کریں۔مثلاً جن محلوں میں تاجر زیادہ ہیں اُن میں تاجرانہ ایمانداری کے متعلق وعظ ہونے چاہئیں، جن میں زمیندار زیادہ ہیں ان میں انہی عیبوں کے متعلق لیکچر دلانے چاہئیں جن میں بالعموم زمیندار مبتلا ہوتے ہیں۔مثلاً لڑکیوں کو ورثہ نہ دینا ، سودی قرض لینا اور اسی طرح کے اور معاملات جو عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں ہزاروں مسائل ایسے ہیں جن سے عوام الناس واقف نہیں ہوتے۔بیشک جب وہ ان عیوب کا ارتکاب کریں گے ہم انہیں مجرم قرار دیں گے لیکن ان کا جرم غفلت کی وجہ سے ہوگا شرارت کی وجہ سے نہیں۔پس یہ ایک عظیم الشان فائدہ ہے جو نماز با جماعت سے حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن نماز با جماعت کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے لوگ ان فوائد سے محروم رہتے ہیں اور وہ بعض دفعہ ایسی حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔میں قادیان میں دو تین سال سے ایسے حالات دیکھ رہا ہوں کہ اگر میری ہدایات کی پابندی کی جاتی اور محلوں میں علمائے سلسلہ کے وعظ ہوتے رہتے تو وہ واقعات یا تو بالکل نمودار نہ ہوتے یا اگر ہوتے تو بہت کم۔ہمارے زمینداروں میں سکھوں کے ساتھ رہائش رکھنے کی وجہ سے مرد و عورت کے تعلقات کے متعلق اسلامی تعلیم سے بہت حد تک غفلت پیدا ہوگئی ہے۔سکھوں میں عام طور پر شادی کے طریق اسلامی طریق کے بالکل خلاف ہیں۔مثلاً چادر ڈال دیتے ہیں یا اگر لڑ کی راضی ہو تو ماں باپ کی مرضی کے بغیر اُس سے شادی کر لیتے ہیں۔ان کی دیکھا دیکھی یہ رسوم مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔حالانکہ اسلام کی تعلیم اس کے بالکل الٹ ہے۔اسلام میں عورت سے برابر کا سلوک کیا جاتا ہے۔جیسے حق مردوں کے رکھے گئے ہیں اسی طرح عورت کے بھی رکھے گئے ہیں اور نکاح کے متعلق تو خصوصیت۔اسلام نے بعض قوانین مقرر کئے ہیں۔جب تک ان قوانین کی پابندی نہ کی جائے اُس وقت تک انسان