خطبات محمود (جلد 18) — Page 162
خطبات محمود ۱۶۲ سال ۱۹۳۷ء کے پاس جاتی اور پھر باہر جا کر اُس کے متعلق باتیں کرتی ہے مگر کیا وہ سچ نہیں ہوتا۔غرض سچائی کے اظہار کیلئے بھی شرائط ہوتی ہیں اور ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ہر شخص جس بات کو سچائی سمجھتا ہے وہ اس سچائی کے اظہار کا حق تو رکھتا ہے لیکن دشمن کی مجلس میں جب طبائع میں جوش ہوا سے اس کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔جب لوگ جلوس نکال رہے ہوتے ہی ہیں اُس وقت ان کی ساری عقیدت جو اپنے پیشواؤں کے ساتھ وہ رکھتے ہیں پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے۔محرم میں جب شیعہ لوگ روتے پیٹتے ہیں ، سنی بھی شیعہ ہو جاتے اور ان میں سے اکثر ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔کسی عقلمند کا مقولہ ہے کہ مسلمان گیارہ مہینے سنی رہتے ہیں اور بارہویں مہینہ سب شیعہ بن جاتے ہیں۔در حقیقت یہ بات بالکل درست ہے۔جس وقت شیعہ لوگ یا حسین یا حسین“ کے نعرے لگاتے ہیں تو واقعات کربلا کی یاد میں سنیوں کی عقلوں پر بھی پردہ ڈال کر انہیں شیعہ بنا دیتی ہے اور اپنی سنیت انہیں بھول جاتی اور شیعیت ان پر غالب آجاتی ہے۔اسی طرح جس وقت ہندو یا سکھ جلوس نکال رہے ہوتے ہیں ان کی عقیدت کا جوش انتہاء تک پہنچا ہو ا ہوتا ہے۔اُس وقت اگر کوئی مخالف اپنے عقیدہ کا اظہار کرتا ہے تو گو وہ ایک سچائی ہی ہو مگر چونکہ اس سے دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہے اس لئے وہ مجرم ہے اور اس کی جماعت کا کوئی حق نہیں کہ اس سے ہمدردی کرے۔در حقیقت میں تو اب کچھ مدت سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ تمام جلوسوں کی کو بند کر دے۔جلوسوں کی وجہ سے ہندوستان میں بڑے بڑے فساد ہوتے ہیں۔جب جلوس نکلتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک آفت آگئی۔ادھر جلوس والوں میں جوش ہوتا ہے اُدھر جلوس کو دیکھ کر مخالفوں کے دلوں میں غیظ و غضب بھڑک اُٹھتا ہے اور بسا اوقات فساد اور کشت و خون تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔پس ہندوستان کے امن کی راہ میں جلوس ایک خطر ناک روک ہیں اور گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ ان جلوسوں کو بند کر دے۔اگر گورنمنٹ جلوسوں کے متعلق کوئی ایسا عام فیصلہ صادر کر دے کہ کسی کو بھی جلوس نکالنے کی اجازت نہ ہوگی تو میں اپنی جماعت کی طرف سے حکومت کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس کے خلاف نہ صرف کوئی پروٹسٹ نہیں کریں گے بلکہ حتی الامکان اس کی مدد کریں گے۔کیونکہ اس زمانہ میں جلوس سخت فسادات کا موجب بنے ہوئے ہیں۔پس تم میں سے جس شخص نے بھی یہ نعرہ لگایا اس نے سخت غلطی کی اور ایک مجرمانہ فعل کا ارتکاب