خطبات محمود (جلد 18) — Page 123
خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۳۷ء میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر انسانی زندگی پانچ ، سات سو بلکہ ہزار سال کی بھی ہوتی اور یہ تکالیف میں بسر ہوتی تو وہ تکالیف بھی آخرت کے آرام کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہ رکھتیں۔لیکن یہ زندگی تو ہے ہی بہت محدود۔اس کی تکالیف اور بے عزتی کی حقیقت ہی کیا ہے اصل عزت خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی ہے۔اگر اس کیلئے ہمیں اپنی عزت کی قربانی کرنی پڑے تو ہمیں اپنی عزت اسی میں سمجھنی چاہئے اور سلسلہ کیلئے ہر قربانی پیش کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔خصوصیت سے اس وقت یہ بات میں نے اس لئے کہی ہے کہ چند دنوں میں دور دیا ایسے ہوئے ہیں جو جماعت کو اس طرف توجہ دلانے والے ہیں۔ایک رؤیا تو ہمارے خاندان سے باہر کے ایک دوست نے دیکھا ہے۔اس نے رویا میں رسول کریم ﷺ کو دیکھا ہے۔آپ لوگوں سے کچھ فرماتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی تم کو نصیحت کی گئی تھی۔دوسرا رویا میری ہمشیرہ نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک تخت پر کھڑے ہیں جو کانپ رہا ہے اور آپ لوگوں سے فرماتے ہیں کہ پندرہ میں روز یہ دعا کرو رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا اور متفرق مقامات کے متفرق اشخاص کے یہ خواب بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے ایمانوں کو صدمہ سے بچانا چاہتا ہے اور بعض کے ایمانوں کو خطرہ سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور یہ تینوں مقام ایسے نہیں کہ ان کو غفلت سے گزار دیا جائے۔اس لئے میں نے ضروری سمجھاتی کہ مومن اور منافق کا فرق دوستوں کو بتا دوں۔تا اگر وہ اپنے ایمانوں کو بچانا چاہیں تو بچالیں ورنہ ایمان اور نفاق میں بال سے بھی زیادہ بار یک فرق ہے جسے انسان سمجھ بھی نہیں سکتا۔خصوصاً اس زمانہ کیلئے تو پیشگوئیاں بھی بہت سی ہیں۔مثلاً ایک پیشگوئی یہ ہے کہ یمسى مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا - یعنی بعض انسان رات کو مومن ہونے کی حالت میں سوئے گا اور صبح اُٹھے گا تو کافر ہوگا۔یہ زمانہ اس قدر وساوس اور شبہات کا ہے کہ ایمان کو بچانا بہت مشکل ہے۔بیشک قرآن کریم نے اس زمانہ کی نسبت فرمایا ہے کہ وَإِذَا الْجَنَّةُ ازْلِفَت نے جنت قریب کر دی جائے گی۔لیکن ساتھ ہی قرآن کریم سے اس زمانہ کا زمانہ ابتلا ء ہونا بھی ثابت ہے۔پس یہ جو آزادی کا زمانہ ہے اس میں ہر وقت تم نفاق کے دروازہ پر کھڑے ہو۔تمہیں چاہئے کہ ہر وقت اپنے ایمان کی فکر کرتے رہو اور اس کا طریق بھی میں نے بتا دیا ہے۔اگر چاہو تو اس سے فائدہ اُٹھا کر اپنے ایمانوں کو بچا سکتے ہو ورنہ منافقت کا دروازہ بالکل قریب ہے اور ایک ہی دھکے میں تم