خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 122

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کا مطلب یہی ہے کہ اگر میں لیڈر ہوتا تو پھر یہ جماعت اچھی تھی۔اس کا فعل ہی دلالت کرتا ہے کہ وہ عزت کا بھوکا ہے اور اگر وہ کہتا ہے کہ مجھے عزت کی ضرورت نہیں تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔کیونکہ اُس کا عمل اُس کے قول کو رڈ کر رہا ہوتا ہے۔وہ یقیناً عزت کا خواہشمند ہے اور یہی خواہش اسے ذلیل کرتی جاتی ہے۔پس میں نے ایک گھلا معیار بتا دیا ہے۔اگر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری قربانی کی پرواہ نہیں کی گئی تو یا د رکھو کہ جس دن تمہارے اندر یہ خیال پیدا ہوا اُسی دن سے تمہارے اندر نفاق کی رگ پیدا ہو گئی۔ایسے شخص کو میں منافق تو نہیں کہتا لیکن نفاق کی رگ اس میں ضرور ہے۔کئی ہیں جو کسی سے لڑتے ہیں تو شکایت کرتے ہیں کہ جماعت ہماری مدد نہیں کرتی۔وہ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے سلسلہ کی کوئی خدمت کی تھی۔لیکن اگر تم اسے خدا کا کام سمجھتے ہو تو پھر تمہارا کیا حق ہے کہ اس کے معاوضہ کی اُمید رکھو۔کئی لوگوں کو اس بات پر ابتلاء آجاتا ہے کہ فلاں شخص کو پریذیڈنٹ یا سیکرٹری یا امام الصلوۃ کیوں بنا دیا گیا۔میں نے یہ ایک ایسا معیار بتا دیا ہے کہ اگر تم اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے نفسوں کو ٹو لتے رہو تو نفاق سے بچ سکتے ہو۔جب تمہارے دل میں عجب ، بڑائی اور کبر پیدا ہو، جب یہ خیال پیدا ہو کہ تمہارے ساتھ ، تمہاری اولاد کے ساتھ ، تمہارے بھائیوں کے ساتھ اور دوستوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا تو سمجھ لو کہ یہ نفاق ہے۔جب اِس سلسلہ کو خدائی سلسلہ سمجھتے ہو اور جماعت میں کوئی نقص دیکھتے ہو تو سمجھ لو کہ خدا خود ذمہ دار ہے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔جو فعل بادشاہ کے سامنے ہو اہو کیا اُس کی طرف بادشاہ کو توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے ؟ وہ اگر ضرورت سمجھے تو خود ہی دخل دیتا ہے۔پس تم بھی یہی سمجھو کہ اگر کوئی بات دخل دینے کے قابل ہے تو ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ سب کچھ دیکھتا ہے وہ خود دخل دے گا۔اگر نہیں دیتا تو سمجھ لو کہ دخل دینے کی ضرورت نہ تھی۔پس ایمان کے ساتھ زندگی بسر کرو۔یہ زندگی ہے کتنے دن کی۔اگر کوئی شخص یہ چند روز بھی صبر کے ساتھ نہیں گزار سکتا تو وہ کس طرح توقع کر سکتا ہے کہ اسے ایک نہ ختم ہو نیوالی زندگی دے دی جائے۔وہ ان گنت سالوں کی زندگی حاصل کرنا چاہتا ہے مگر دو یا چار سال صبر سے نہیں گزار سکتا۔