خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 121

خطبات محمود ۱۲۱ سال ۱۹۳۷ء وہ فرشتوں نے سختی سے ان بھیڑوں کی گردن کی تمام رگیں کاٹ دیں اور کہا کہ تم چیز کیا ہو گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔2 جو شخص خود بجز اور انکساری دکھاتا ہے اور خدا کیلئے بڑی سے بڑی ذلت برداشت کرنے کیلئے تیار رہتا ہے، اُس کیلئے دنیا بھی موتی اور ہیرے بن جاتی ہے۔مگر جو اپنے لئے دنیا کی طرف جھکتا اور ان بڑائی دکھاتا ہے وہ اس کیلئے گوہ بن جاتی ہے اس لئے کہ وہ خدا کا مال ہے اور جو خدا کا نہیں ، خدا کے مال پر اس کا کوئی حق نہیں۔دنیا اگر مومن کے پاس ہو تو وہ چونکہ خدا کا بندہ ہے وہ اس کیلئے حلال طیب بن جاتی ہے اور منافق کے پاس ہو تو چونکہ اس کیلئے حرام ہوتی ہے وہ اس کیلئے نجاست بن جاتی ہے کیونکہ و خدا کا مال ہے جس پر منافق کا کوئی حق نہیں ہوتا۔وہ ایک کو انسان بنادیتی ہے اور دوسرے کو گوہ کھانے والی بھیڑ۔جب وہ سمجھتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں اُس وقت وہ گوہ کھانے والی بھیڑ ہے اور جب اپنے نفس کو مٹادیتا ہے اُس وقت وہ خدا کا سپاہی بنتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کے ہاتھ پاؤں ، آنکھ ، کان ، ناک ہو جاتا ہے۔وہ خدا کا مظہر ہے اس لئے خدا کی چیزیں اُس کیلئے حلال اور طیب ہو جاتی ہیں لیکن جس اپنا ایک الگ وجود بتا تا ہے تو وہ غیر ہو جاتا ہے اور غیر کو خدا تعالیٰ کے مال پر کوئی حق نہیں۔پس اپنے نفسوں کو ٹولو اور دیکھو کہ تمہاری قربانیاں اپنے نفس کیلئے تو نہیں۔اگر تم کسی عزت کے طالب ہو ، اگر معاوضہ کے خواہاں ہو تو تم گوہ کھانے والی بھیڑیں ہو۔لیکن اگر تم نمازیں پڑھتے ، چندے دیتے اور قومی کام کرتے ہو اور ہر کام کے بعد تم دیکھتے ہو کہ تمہارا نفس اور بھی چھوٹا ہو گیا ہے یہاں تک کہ ایک دن آتا ہے کہ تم اپنے آپ کو دیکھ ہی نہیں سکتے، تمہارا وجود مٹ جاتا ہے تو تم بیشک مومن ہو۔بعض لوگ بڑے حیران ہوتے ہیں کہ فلاں شخص بڑا عالم ہے، نمازیں پڑھتا اور روزے رکھتا ہے وہ منافق کیسے ہو سکتا ہے۔حالانکہ منافق اُسے نہیں کہتے جو نمازیں نہ پڑھے یا روزے نہ رکھے بلکہ منافق وہ ہے جو کام اپنے نفس کیلئے کرتا ہے اور پھر چینی اور شور مچاتا ہے کہ میری قدر نہیں کی گئی۔اگر کہو کہ کس طرح پتہ لگے کہ کوئی شخص ذاتی عزت کا خواہاں ہے تو اس کا طریق آسان ہے۔تم دیکھو کہ جب وہ ایک جماعت میں شامل ہے اور پھر اس پر اعتراض بھی کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ ذاتی عزت چاہتا ہے۔دراصل جماعت میں خرابی نہیں۔اگر فی الواقعہ جماعت میں خرابی ہوتی تو وہ اس میں شامل ہی کیوں رہتا۔اگر جماعت کو ہی وہ بُراسمجھتا ہے تو اس سے الگ کیوں نہیں ہو جاتا۔شامل رہنے اور پھر اعتراض کرنے