خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 104

خطبات محمود ۱۰۴ سال ۱۹۳۷ء مجھے کیا دو گے؟ اگر ان چھوٹے چھوٹے فوائد کے حاصل ہونے پر بھی دنیا میں کوئی دوسرے سے ایسے بیہودہ سوال نہیں کرتا بلکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جانے کو ہی اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتا ہے تو ی خدا تعالیٰ کی ملاقات اور اُس کے وصال کا راستہ میسر آجانے پر اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں اس راستہ پر چلا تو مجھے کیا دو گے؟ تو وہ پاگل نہیں تو اور کون ہے۔مذہب کے معنے تو اُس راستہ کے ہیں جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا دے۔پس اگر اس نے ی ایسا راستہ پالیا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے خدا کو پالیا۔پھر جب اس نے خدا کو پالیا ہے تو اس کا یہ کہنا کہ مجھے کیا دو گے، بیوقوفی اور حماقت ہے۔جو شخص کچھ پالیتا ہے اس سے لوگ لیا کرتے ہیں یا وہ لوگوں سے لیتا ہے۔کیا تم نے کبھی سنا کہ کوئی طالب علم آئے اور کہے اے بھائیو! میں امتحان میں پاس ہو گیا ہوں اب بتاؤ تم مجھے کیا کھلاؤ گے؟ جو لڑ کا امتحان میں کامیاب ہوتا ہے وہ دوسروں سے مانگا نہیں کرتا بلکہ اُستاد اور ہم سبق دونوں اُس کے پاس جاتے اور کہتے ہیں ہمیں مٹھائی کھلاؤ کیونکہ تم کامیاب ہوئے ہو۔پس اگر یہ سچ ہے کہ انہوں نے سچا مذ ہب پالیا ہے تو پھر دنیا کا حق ہے کہ وہ ان سے قربانی کا مطالبہ کرے۔ان کا حق نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنے لئے مانگیں۔دیکھ محمد اللہ نے اپنے خدا کو پالیا۔پھر انہوں نے لوگوں سے کچھ مانگا نہیں بلکہ دنیا کی بھلائی کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت نوح علیہم السلام نے خدا تعالیٰ کو پالیا پھر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں کیا دو گے بلکہ انہوں نے کہا ہم نے پالیا ہے آؤ ہم تم کو بھی دیں۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب دور سے خدا تعالیٰ کا نور آگ کی شکل میں دیکھا تو انہوں نے یہی کہا کہ ٹھہرو میں وہاں جاتا ہوں اور وہاں سے کوئی انگارا تمہارے لئے بھی لاؤں گا۔تو جو لوگ کچھ پالیتے ہیں وہ لوگوں سے یہ نہیں کہا کرتے کہ ہمیں کیا دو گے؟ بلکہ وہ کہتے ہیں ہم سے کیا قربانی لو گے۔تو میں انہیں ہمیشہ یہ جواب دیا کرتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ پھر وہ سب کے سب خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں حقیقت میں خدا نہیں ملا ہوتا بلکہ وہ دنیا کے کے ہوتے ہیں اور چونکہ وہ چیز جس کی انہیں تلاش ہوتی ہے میرے پاس نہیں ہوتی اس لئے وہ مایوس ہو کر کسی اور طرف کا رُخ کر لیتے ہیں۔ھو تو جب خدا تعالیٰ کے بندے بھی سودا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت