خطبات محمود (جلد 17) — Page 771
خطبات محمود 221 سال ۱۹۳۶ بن گئیں۔اب اگر وہ چار پانچ راتیں ہوشیاری اور بیداری میں صرف کریں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ظلمت کی چادر پھٹ سکتی ہے اور ایسا نور پیدا ہو سکتا ہے جو ان کو روحانی رستہ دکھانے میں مدد دے سکتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ تم خدمت کرتے ہو یہ خدا تعالیٰ کا تم پر فضل ہے کہ وہ ان مہمانوں کو یہاں لایا اور تم کو خدمت کا موقع دیا۔اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم لوگوں کی خدمت کرتے ہو تو ی تم مشرک ، منافق اور جاہل ہو۔یہ ان لوگوں کی خدمت نہیں بلکہ اُس خدا کی خدمت ہے جس نے یہ دن مقرر کئے ہیں اور جس نے اپنے دین کے اعلاء کیلئے اپنے بندوں کو یہاں جمع ہونے کا حکم دیا ہے۔جب آقا کے گھر میں مہمان آیا ہوا ہو تو اس کے آگے کھانا رکھنے والا خادم یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے مہمان کی خدمت کی ہے وہ مہمان کی نہیں بلکہ اپنے آقا کی خدمت کرتا ہے۔پس آنے والے خدا کے مہمان اور تم خدا کے خادم ہوا گر تم ان مہمانوں کی خدمت کرتے ہو تو ان پر کوئی کی احسان نہیں کرتے۔یادرکھو کہ یہ خدا کے مہمان ہیں ان کی ذراسی دل شکنی اور بہتک خدا تعالیٰ کی ج دل شکنی اور ہتک ہے۔پس ہوشیار ہو جاؤ کہ تم عظیم الشان امتحان میں بٹھائے گئے ہو اور آئندہ آنے والے چار پانچ دن فیصلہ کریں گے کہ تم کامیاب ہوتے ہو یا نہیں۔دنیا کے امتحانوں میں کامیاب ہو۔والے لوگ انعامات حاصل کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے پیش کردہ سوالوں میں کامیابی حاصل کر کے جو انعامات حاصل ہو سکتے ہیں بندہ ان کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا اور نا کامی کی صورت میں جو سزا ملتی ہے دنیوی امتحانوں میں ناکامی کی سزا اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔پس کوشش کرو اور دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی اور باہر سے آنے والوں کو بھی امتحان میں کامیاب کرے۔ہم سب کمزور ہیں ایک ہمارا خدا ہی ہے جو سب نقائص سے پاک ہے۔آؤ ہم اس کے سامنے جھک جائیں اور اس سے عاجزانہ درخواست کریں کہ اے خدائے قدوس ! اپنے عاجز بندوں پر نظر کر ہمیں پاک کر اور اس امتحان میں کامیاب کر کہ نا کامی کی سزا کی برداشت کی طاقت ہم میں نہیں اور تیرے انعام سے ہم کبھی مستغنی نہیں ہو سکتے۔میں امید کرتا ہوں کہ موجودہ دوست بعد میں آنے والوں کو میری یہ نصیحت پہنچا دیں گے کہ ان اوقات کو خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت خرچ کریں کی