خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 727 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 727

خطبات محمود ۷۲۷ سال ۱۹۳۶ ایک وسیع بادشاہت عطا فرما دی۔پس اللہ تعالیٰ بحیثیت قوم تم کو بھی یقیناً با دشاہت دے گا لیکن اس کے وقت کا علم خدا تعالیٰ کو ہی ہے ہاں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پہلے مسیح کی قوم کو جس سرعت سے ترقی ملی تھی اس سے بہت زیادہ سرعت سے ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے اور پھر جو ہم سے وعدے ہیں وہ پہلے مسیح سے بہت زیادہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تین سو سال کے اندر جماعت احمد یہ سب دنیا پر غالب آجائے گی اور اس کے مخالف صرف چوہڑے اور چماروں کی طرح کمزور اور قلیل التعداد ہو جائیں گے مگر یہ بادشاہت قومی ہوگی۔لیکن خدا تعالیٰ کا قرب ہر شخص حاصل کر سکتا ہے دنیا چھوٹی ہے اس لئے ہر ایک کو نہیں مل سکتی مگر خدا بڑا ہے اس لئے ہر شخص اسے پاسکتا تھی ہے کیا تم جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہو پانی کے ایک گلاس سے سیر ہو سکتے ہو؟ ہر گز نہیں لیکن دریائے اٹک سے سب اپنی پیاس بجھا سکتے ہو اور خدا تعالیٰ کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں۔پس دنیا ایک متاع قلیل ہے اور ٹنڈ یا کوزے کا پانی ہے اسے اگر تقسیم کرو گے تو کسی کا بھی پیٹ نہیں بھرے گا۔پس جو وعدہ ہر شخص سے ہے وہ دنیا کا نہیں وہ روحانی وعدہ ہے۔دُنیوی وعدہ صرف قومی وعدہ ہے پس جو اِس لئے قربانی کرتا ہے کہ اُسے دولت مل جائے وہ نادان ہے اور اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنی کی طرف مائل ہوتا ہے۔پس اس نکتہ کو سمجھ کر قربانی کرو تا کوئی ٹھوکر نہ لگے اور اس میراثی کی مثال نہ بن جاؤ۔ٹھوکریں ہمیشہ ایسے ہی خیالات سے لگتی ہیں کہ مجھے فلاں خطاب نہیں ملا، میرے لڑکے کو فلاں عہدہ نہیں ملا، یہ رشتہ نہیں ہوا، فلاں شخص سے ہمارا جھگڑا تھا وہ ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوا۔لیکن جس شخص کی نیت ہی خدا کو ملنے کی ہوا سے ابتلاء کس طرح آسکتا ہے اُس کے پاس تو جب کوئی منافق جا کر کہے کہ تمہیں دنیوی دولت نہیں ملی تو وہ کہتا ہے کہ میں نے مانگی ہی کب تھی۔جب اُسے کہا جائے کہ تمہارے ساتھ فلاں رعایت نہیں کی گئی تو وہ کہتا ہے کہ میں نے کی اس کی خواہش ہی کب کی تھی مجھے تو صرف خدا سے ملنے کی خواہش تھی اور وہ مجھے ملا ہوا ہے۔ایسے شخص کو ابتلاء نہیں آسکتا۔ابتلاء ہمیشہ اُسے ہی آتا ہے جو بظاہر تو خدا خدا پکارتا ہے مگر اس کے دل سے دنیا دنیا کی صدائیں نکل رہی ہوتی ہیں۔پس اگر تم خدا کے ہو جاؤ اور اُسے اپنا مقصود قرار دے کر قربانیاں کرو تو ساری دنیامل کر بھی تمہارے لئے ٹھوکر کا سامان پیدا نہیں کر سکتی اور تم اس چیز کے مستحق ہو سکتے ہو جس کے مقابل میں کوئی اور چیز نہیں رکھی جاسکتی۔