خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 69

۶۹ سال ۱۹۳۶ء خطبات محمود ہندستانیوں میں ہیں۔بے شک ان کا کثیر حصہ ایسا ہے جو اپنے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرتا ہے لیکن ان میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے وقت کو فضول صرف کرنے کے عادی ہیں۔شاید اس لئے کہ وہ شراب پینے کے عادی ہیں اور شراب بھی آوارگی پیدا کرتی ہے یا شاید اس لئے کہ ان میں ہوا ہے اور جو ابھی آوارگی پیدا کرتا ہے۔بہر حال ان میں بھی ایک حصہ آوارہ ہے اور ان میں بھی وہی آوارگیاں ، وہی گند اور وہی بُری باتیں پائی جاتی ہیں جو ہندوستانیوں میں پائی جاتی ہیں مگر وہ اتنے بھیا نک سمجھے جاتے ہیں کہ شرفاء ان کے پاس کھڑا ہونا بھی گوارا نہیں کرتے۔پس اس لحاظ سے یورپ اور ہندستان میں پھر بھی امتیاز ہے۔جبکہ ہمارے ہاں ایک فحش کلام ، ایک گندہ دہن اور ایک بد مذاق انسان کے پاس کھڑا ہونا شرفاء باعث عار نہیں سمجھتے اور نہ اور لوگ بُرا مناتے ہیں۔انگلستان میں اگر کسی شخص کو اس قماش کے لوگوں کے پاس کھڑا ہو ا دیکھ لیا جائے تو اُس کی کی ساری عزت خاک میں مل جاتی ہے اور وہ کسی سوسائٹی میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔لوگ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ جب یہ آوارہ شخص کے پاس کھڑا تھا تو یہ بھی آوارہ ہوگا۔پس وہاں کے آوارہ ایک زندہ جیل خانہ ہوتے ہیں کہ جو شخص ان کے پاس کھڑا دیکھا جائے یا باتیں کرتا دیکھا جائے اُس کی عزت بھی جاتی رہتی ہے اور جس طرح طاعون سے بچانے کیلئے کیمپ کھولے جاتے ہیں انہوں نے بھی اپنی قوم کو آوارگی سے بچانے کیلئے گویا اس قسم کے کیمپ بنارکھے ہیں اور آوارگی سے اتنی شدید نفرت اپنی قوم میں پیدا کر دی ہے کہ آوارہ شخص سے بات کرنا بھی آوارگی کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی آوارہ کے ساتھ چل پھر رہا ہو، اُس سے باتیں کر رہا ہوں اور اُس سے تعلقات رکھتا ہو تو پوچھنے پر لوگ کہہ دیتے ہیں وہ آوارہ ہے یہ تو نہیں۔مگر وہاں چلنا پھرنا تو الگ رہا ایک منٹ کیلئے بھی اگر کوئی کسی آوارہ کے پاس کھڑا ہو جاتا ہے تو سب لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے۔تو کام کرنے کی وجہ سے جماعت میں بہت نیک تغیرات پیدا ہو سکتے ہیں۔قادیان اور باہر کے لوگ چندے تو دیتے ہیں مگر جو چیز قوم کی حقیقی روح ہے وہ ان چندہ دینے والوں نے ابھی تک پیدا نہیں کی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور صدرا انجمن احمدیہ کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا کام شروع کرے جس میں سر حصہ