خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 70

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء لیں۔کام اس کے ہاتھ میں ہیں میرے ہاتھ میں نہیں۔اگر میرے ہاتھ میں ہوتے تو میں اب تک کئی کام شروع کرا دیتا۔اس کے ساتھ ہی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ وزراء اور نا ئب ہوتے ہیں ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے افسر کی روح اپنے اندر پیدا کریں اور اس کے اشاروں کو سمجھیں۔اگر دماغ میں کوئی اعلی تجویز آئے مگر ہاتھ شل ہوں تو وہ تجویز کسی کام کی نہیں رہتی اور نہ کوئی نتیجہ پیدا کر سکتی ہے۔ناظر ہونے کی وجہ سے وہ میرے نائب ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ وہی روح اپنے اندر پیدا کریں جو میں پیدا کرنی چاہتا ہوں۔جس طرح باد نما مرغ ہوتا ہے کہ وہ ہوا کے رخ کے مطابق اپنا رُخ بدلتا ہے اسی طرح بہترین ناظر وہی سمجھا جاسکتا ہے جو خلیفہ وقت کے اشاروں کو سمجھے۔جو روح خلیفہ پیدا کرنا چاہے وہی روح ناظر پیدا کریں اور جو سکیم خلیفہ پیش کرے وہی سکیم تمام ناظر رکھیں۔اگر ناظروں میں تعاون نہ ہو اور وہ میری باتوں کو نہ سنیں ، جو تجاویز میں پیش کروں اُس کی بجائے وہ اپنی تجاویز چلانا چاہیں، جو میں تدابیر بتاؤں اُن کو چھوڑ کر وہ اپنی تدبیریں بروئے کار لائیں اور اگر کارکنوں میں تعاون نہ ہو ، مبلغوں میں تعاون نہ ہو اور میں کچھ کہتا رہوں اور وہ کچھ اور کرتے رہیں تو یہ یہی بات ہوگی کہ : من چه سرائم و طنبوره من چه سرائد مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ تربیت کے نقص کی وجہ سے اب تک میری مثال اور ناظروں اور کارکنوں کی مثال بالکل یہی ہے کہ: من چه سرائم و طنبوره من چه سرائد میں کچھ کہتا ہوں اور وہ کچھ اور کرتے ہیں، میں کوئی سکیم پیش کرتا ہوں وہ کوئی اور سکیم چلاتے ہیں، میں کوئی اور پالیسی بتاتا ہوں وہ اپنی پالیسی کے پیچھے چلے جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہترین سے بہترین تجویز کا بھی وہ شاندار نتیجہ نہیں نکلتا جو نکلنا چاہئے۔اگر وہ اپنے آپ کو میرا ہاتھ بناتے ، اگر وہ اپنے آپ کو میرا ہتھیار فرض کرتے اور اگر وہ سمجھتے کہ اُن کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھیں میرے منہ سے کیا نکلتا ہے اور پھر اسے جاری کرنے کی کوشش کرتے تو اب تک کا یا پلٹ گئی ہوتی۔مگر حالت یہ ہے کہ میں کہتا ہوں جماعت کی اس رنگ میں تربیت کرو اور مبلغ وفات مسیح کا مسئلہ رشتے چلے