خطبات محمود (جلد 17) — Page 675
خطبات محمود ۶۷۵ سال ۱۹۳۶ گناہ کے نتیجہ میں یہ سچائی پوشیدہ ہو جائے ، جس مُجرم اور جس گناہ کے نتیجہ میں یہ سارے افعال باطل ہو جائیں اور اربوں ارب اور کھربوں کھرب سالوں سے خدا تعالیٰ جس سچائی کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ مشتبہ ہو جائے اس جرم اور اس گناہ سے ہمیں کتنی شدید نفرت رکھنی چاہئے۔پس ہزار دو ہزار ، یا لاکھ دو لاکھ ، یا کروڑ دو کروڑ ، یا ارب دوارب انسانوں کا سوال نہیں بلکہ اگر دس ارب انسان بھی اس سچائی کے مقابلہ پر آجا ئیں تو جس طرح سر کو کھجلی سے بچانے کیلئے ایک جوں مار دی جاتی ہے اسی طرح ان اربوں لوگوں کی تباہی کی بھی پرواہ نہیں کی جاسکتی کیونکہ صداقت دنیا کی ہر چیز پر مقدم ہے اور انسانوں کی سچائی کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں بلکہ ایک وقت کی دنیا کیا قیامت تک کے سارے عالم اور قیامت تک پیدا ہونے والے نسل انسانی کے تمام افراد بھی سچائی کے مقابلہ میں کوئی وزن نہیں رکھتے۔وہ صرف اتنا ہی وزن رکھتے ہیں جتنا صداقت سے وہ تعلق رکھتے ہوں۔اسی لئے جب میں نے کہا کہ سچائی کے مقابلہ میں اربوں ارب بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والے افراد کی تباہی کی بھی پرواہ نہیں کی جاسکتی تو محمد ﷺ ان انسانوں سے باہر آگئے کیونکہ انہیں انسانیت سے بہت بلند اور بالا مقام حاصل تھا وہ ازلی سچائی کے مظہر ہو گئے تھے۔اسی طرح وہ دوسرے لوگ بھی باہر آجائیں گے جو حسب مراتب صداقت سے تعلق رکھتے ہوں گے۔پس انسانوں سے مراد وہ انسان نہیں جو صداقت کے نمائندہ ہیں ان کے سوا باقی تمام انسان اگر ابتدائے عالم سے لے کر قیامت تک تباہ کر دیئے جائیں تو سچائی کے مقابلہ میں وہ اتنا وزن بھی نہیں رکھتے جتنا ایک من وزن کے مقابلہ میں چنے کا ایک دانہ حیثیت رکھتا ہے۔یہ زمین ، یہ آسمان ، یہ سورج، یہ چاند، یہ ستارے، یہ سیارے اور قسم قسم کی اشیاء جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیں یہ سب سچائی کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک اے محمد احمد ﷺ یہ ساری چیزیں تیرے لئے ہیں کیونکہ تو ہماری سچائی کا نمائندہ ہے اور اگر تو پیدا نہیں ہوتا تو پھر ان چیزوں کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سچائی کے بغیر یہ سب حقیر اور ذلیل چیزیں ہیں۔پس کون بیوقوف یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس کا وجود اتنا بڑا ہے کہ سچائی کے مقابلہ میں اس کی پروا کرنی چاہئے۔سچائی تو اتنی قیمتی چیز ہے کہ اس کیلئے خدا تعالیٰ نے محمد ﷺ کے وجود کو بھی