خطبات محمود (جلد 17) — Page 676
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ ہے خطرہ میں ڈال دیا ، مکہ اور مدینہ میں جب لوگ آپ پر حملہ کرتے تو ان میں سے ہر شخص اسی لئے حملہ کرتا تھا کہ وہ ازلی اور ابدی صداقت جو آپ کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوئی مٹا دے۔پس اس سچائی کیلئے تو محمد ﷺ کی جان کو بھی خدا تعالیٰ نے خطرہ میں ڈال دیا کجا یہ کہ ایک منافق کی جان کی سچائی کے مقابلہ میں حفاظت کی جائے۔تاریخوں میں ایک واقعہ آتا ہے نہ معلوم وہ سچا بھی ہے یا نہیں مگر بہر حال ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے والد کہیں سے آرہے تھے کہ راستہ میں انہوں نے دیکھا ایک عورت بیٹھی اُس عورت پر رسول کریم ﷺ کے والد کا چہرہ دیکھ کر ایسی وارفتگی طاری ہوئی کہ اُس نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی کہ آپ مجھ سے شادی کر لیں۔عرب کی عورتوں میں ہندوستان کی عورتوں کی نسبت بہت آزادی تھی اور اُن میں عورت کا شادی کی خود خواہش کرنا کچھ ایسا معیوب نہ سمجھا جا تا تھا مگر پھر بھی عورت کی ذات اپنے اندر شرم و حیا کا فطرتی مادہ رکھتی ہے اور وہ مرد سے اس قسم کی بات کہتے ہوئے شرماتی ہے لیکن اُس عورت نے کہہ ہی دیا کہ آپ مجھ سے شادی کر لیں۔کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے اُسے کوئی جواب نہ دیا اور گو وہ عورت معزز اور مالدار تھی اور شاید اُس سے شادی کرنا ان کیلئے مفید ہوتا لیکن انہیں جواب دیتے ہوئے شرم محسوس ہوئی اور وہ اپنے گھر چلے گئے۔کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر وہاں سے گزرے تو اسی عورت کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا اور اب کی دفعہ خود اُن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اگر یہ کہے تو میں اس سے شادی کرلوں۔وہ یہ امید رکھتے تھے کہ عورت پھر شادی کیلئے خود اپنے آپ کو پیش کرے گی لیکن وہ عورت خاموش رہی اور اُس نے انہیں کچھ نہ کہا۔اس پر انہیں بہت تعجب ہوا اور انہوں نے اُسے مخاطب کر کے کہا کہ اُس دن جو میں یہاں سے گزرا تھا تو تم نے کہا تھا کہ مجھ سے شادی کر لو اور میں خاموش رہا تھا لیکن آج تم نے یہ بات نہیں کہی اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ عورت کہنے لگی اُس دن جو آپ یہاں سے گزرے تھے تو مجھے آپ کے ماتھے پر ایک نور نظر آیا تھا مگر آج وہ نور مجھے نظر نہیں آیا۔دراصل اسی عرصہ میں حضرت عبداللہ رسول کریم ﷺ کی والدہ ماجدہ کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں آپ کا حمل قرار پا گیا وہ نور جو اُس عورت کو نظر آیا وہ وہی ازلی سچائی تھی جو نسلاً بعد نسل لوگوں کی پشت میں منتقل ہوتی چلی آئی تھی لیکن جب وہ سچائی آمنہ کے پیٹ میں منتقل ہوگئی تو تمام مرد اس سے محروم